وزیراعظم کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹر خرم رسول کو سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کیس بہت ہائی پروفائل ہو گیا ہے۔حساس معاملات سامنے آئیں گے خرم رسول کے خلاف ایل پی جی کوٹہ فراڈ کیس کی سماعت سپریم کورٹ میںچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی ،عدالت نے خرم رسول کو لگائی جانے والی ہتھکڑی کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے باہر توخرم رسول کو بغیر ہتھکڑی لے کر گھومتی رہی اور عدالت کے اندر ہتھکڑی لگا کر لے آئے،ہمیں دکھانے کےلئے خرم رسول کو ہتھکڑی لگائی گئی ۔خرم رسول نے تو خود گرفتار ی دی ہے ،ایف آئی اے کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہے؟خرم رسول نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا میڈیا کورڈینیٹر رہا ہوں ، یہ ایک کاروبای ڈیل تھی فراڈ نہیں تھا ،افغان کارپٹ والے سے سندھ ہائی کورٹ میں دعوے چل رہے ہیں ،80 فیصد ادائیگیاں کر چکا ہوں ،باقی 10، 11کروڑ کا مسئلہ رہ گیا ہے وہ بھی حل کر لوں گا،خرم رسول نے عدالت کو بتایا کہ مجھے فون پر دھمکیاں دی جاتی رہی ۔وزیراعظم کو کیس میں بلاوجہ ملوث کیا جا رہا ہے ،میری اہلیہ اوربچوں کو اٹھانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں،جس کی بناءپر میرے بچے کافی عرصے سے اسکول نہیں جا سکے ،مجھے یہ بھی کہا گیا کہ ہم وزیراعظم کو بھی اٹھا لیں گے۔خرم رسول نے کہا کہ عدالت پر اعتماد ہے اس لئے خود ایف آئی اے کو گرفتاری پیش کی ہے،جبکہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کا عدالت میں اپنا موقف دیتے ہوئے کہنا تھا کہ خرم رسول کبھی بھی وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نہیں رہے،خرم رسول کا تعاقب کر کے سہالہ پل سے گرفتار کیا گیاہے،کیس میںڈی جی گیس منصور کو بھی پکڑا ہے ،جس پر چیف جسٹس نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا خوشنودلاشاری کوبھی ایگز ام کریں گے؟ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ خرم رسول کی بیوی کے بھی وارنٹ گرفتاری ہیں ،خرم رسول کی بیوی کے کاونٹ میں25 لاکھ روپے ہیں ،چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خرم رسول کا بیان دفعہ164 کے تحت لیا جانا چاہیے تھا۔کیس کی آہستہ آہستہ سمجھ آگئی ہے کہ آخر ہوا کیاہے،کیس ہائی پروفائل ہو گیا ہے ، دوسرے اداروں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کو گرفتار کرنا تھا تو ایک سال کا عرصہ نہ گزرتا،ہائی کورٹ نے بھی گرفتاری کےلئے متعدد بار حکم جاری کیا تھا ،164 کے بیان میںبڑے بڑے لوگوں کو ملوث کیا گیا ہے ،لگتا ہے کوئی اس کیس کو سمجھ نہیں رہا اس کے بہت بڑے اثرات ہوںگے،عدالت نے خرم رسول کیس میں عدالتی آرڈر میں لکھا دیا۔آرڈر میں کہا گیا ہے کہ11 مارچ 2011 کو مقدمہ اندراج کے بعد بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ہائی کورٹ احکامات کے باوجودایف آئی اے خرم رسول کوگرفتار کرنے میں ناکام رہی ۔خرم رسول نے ابتدائی طور پر بینکنگ لاہور کورٹ سے ضمانت لی جبکہ ہائی کورٹ نے ضمانت قبل ازوقت گرفتاری کے مسترد کردی تھی۔جب چالان ہی نہیں تھا تو رپورٹ میں ضمانت کیسے لے لی ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیس تونیب کے پاس جانا چاہیے تھا۔عدالت نے سما عت 10 فروی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے غیر جابنداری کے ساتھ کیس کو آگے بڑھائے،اب قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔