ملک میں تین عیدیں منانے کا نیا ریکارڈ
August 19, 2012 Leave a comment
ملک میں ایک عید منانے پر اتفاق ہونا تو دور کی بات اس سال تو ہم نے تین عیدیں مناکر ریکارڈ قائم کردیا۔ پہلے چاند کی رویت کا معاملہ علماء کے سپرد ہوتا تھا تاہم چند برس سے اس پر سیاست بھی ہونے لگی ہے۔ اس مرتبہ صدر زرداری تک نے اسفندر یار ولی اور اے این پی کے دیگر رہنماوٴں کو بلاکر ایک عید پر اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس کا مثبت نتیجہ نکلنا تو دور کی بات ہم نے اس سال تین عیدیں مناکر ریکارڈ قائم کردیا۔ وزیرستان میں مقامی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر ہفتے کو ہی عید منادی گئی تھی جب دنیا بھر میں روزہ تھا۔ پشاور میں سب سے زیادہ چاند نظرآنے کا ریکارڈ برقرار رہا اور اس مرتبہ چاند دیکھنے کی دوڑ میں سرکاری زونل کمیٹی بھی شامل ہوگئی۔ حیرت انگیز طور پر اے این پی بھی اقتدار میں آنے کے بعد چاند کی سیاست کرنے لگی ہے۔ حالانکہ اے این پی وہ جماعت ہے جو دین کو سیاست سے الگ رکھنے کے نعرے پر سیاست کرتی رہی ہے لیکن اب اے این پی کے رہنما دین کو بھی قوم پرستی کی بھینٹ چڑھانے کے درپے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہی کیوں سب سے زیادہ چاند نظرآتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کی آمد کے بعد صوبے میں نسلی استحکام متاثر ہوا ہے۔ افغان مہاجرین پاکستان میں رہتے ہوئے افغانستان کے ساتھ عید مناتے ہیں اور قوم پرستی کا یہ جذبہ مقامی علماء کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اے این پی کی قیادت بظاہر تو سعودی عرب کے ساتھ عید منانے کی جواز پیش کرتی ہے تاہم لوگوں کا خیال ہے کہ اصل میں وہ افغانستان کے ساتھ عید منانا چاہتے ہیں۔ کیا خیبر پختونخوا میں واقعی عید افغانستان کے ساتھ منانے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے اور کیا واقعی یہ پشتون قوم پرستی کا شاخسانہ ہے، اس کا جواب ایمانداری سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
