تصویر

جرمنی کی اعلیٰ عدالت نے کہا ہے کہ ایسے ہم جنس پرست افراد جو پارٹنرز کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ ان پر بھی ٹٰیکس کا اطلاق ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ شادی شدہ جوڑوں پر کیا جاتا ہے۔ جرمنی کے شہر کالسروہے میں قائم وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ اگر سول پارٹنر شپ کے طور پر رجسٹرڈ ہم جنس پرست خواتین اور مردوں کی ٹیکس کلاس کو بہتر کرتے ہوئے شادی شدہ افراد کی ٹیکس کلاس میں تبدیل نہیں کیا جاتا تو یہ ہم جنس پرستوں کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا۔ کورٹ نے مزید کہا ہے کہ ملکی پارلیمان اس حوالے سے مناسب قانون سازی کرے۔ اس فیصلے کو جرمنی میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد یورپی ممالک کی طرح جرمنی میں بھی شادی شدہ افراد کو ٹیکس ادا کرنے کے حوالے سے کچھ مراعات حاصل ہیں۔ اگرچہ جرمنی میں ہم جنس پرستوں کے مابین شادی کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے لیکن سول یونینز کے تحت ایسے افراد بطور پارٹنر رجسٹرڈ کیے جا سکتے ہیں۔ جرمنی میں ہم جنس پرست افراد کے لیے یہ قانون یکم اگست 2001ء میں متعارف کرایا گیا تھا۔ جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ بظاہر ایسی کوئی وجوہات نظر نہیں آتی ہیں کہ ہم جنس افراد کے ساتھ ایسا غیر مساوی سلوک برتا جائے۔ اس عدالتی حکم کا اطلاق 2001ء سے ہو گا جس کا مطلب ہے کہ ایسے تمام ہم جنس پرست افراد کو حکومت ٹیکس ریٹرن کی مد میں رقوم ادا کرے گی، جو تب سے بطور پارٹنر رجسٹرڈ ہیں۔