تصویر

رینجرز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے گینگ وار کے ملزم پولیس اہلکار باقر بلوچ نے تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔

ملزم کے انکشافات اگر منظر عام پر لائے گئے تو نہ صرف پولیس افسران اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران کے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے بلکہ میڈیا کے نمائندوں کے چہرے بھی بے نقاب ہو جائیں گے، حراست میں لیے گئے پولیس اہلکار کو تفتیش کے لیے حساس ادارے نے اپنی تحویل میں لے لیا ، رینجرز نے ہفتے کو بھی نیا آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹارگٹ کلر کو حراست میں لے لیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 50ملزمان کی فہرست تیار کی ہے جو سنگین وارداتوں میں ملوث ہیں، یہ بات حساس ادارے کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایکسپریس کو بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ رینجرز کے ہاتھوں جمعہ کی صبح تقریباً ساڑھے9 بجے لیاری آٹھ چوک پر واقع گھر  سے حراست میں لیے جانے والے لیاری گینگ وار کے اہم ملزم کرائم برانچ ون میں تعینات پولیس اہلکار باقر بلوچ نے دوران تفتیش ایسے انکشافات کیے ہیں کہ اگر وہ منظر عام پر لائے گئے تو اس سے پولیس کے اعلیٰ افسران ، پولیس کی ایجنسیوں کے سربراہان ، اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران کے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے، باقر بلوچ نے قانون نافذ کرنے والے کس افسر کو کتنے کتنے پیسے ہر ہفتے دیے تھے پوری لسٹ تفتیشی افسران کے سپرد کر دی ہے۔

ملزم نے بتایا کہ وہ تمام پولیس افسران اور دیگر لوگوں کو ہفتے والے روز مبینہ بھتے کی رقم پہنچاتا تھا، انھوں نے بتایا کہ ملزم باقر بلوچ نے تفتیش کے دوران یہ بھی بتایا کہ میڈیا کے کون کون سے نمائندے گینگ وار کے سربراہ سے تحائف لیتے تھے، ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے گینگ وار کے کارندوں سے ملنے والی رقم سے ماڑی پور میں ایک رہائشی عمارت خریدی ہے جبکہ لی مارکیٹ فائر بریگیڈ کے سامنے واقع عمارت میں2فلیٹ بھی خریدے ہیں، حاصل ہونے والی بھتے کی رقم سے وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ ایک حج  اور 2 مرتبہ عمرہ کر چکا ہے۔

ملزم نے دوران تفتیش یہ بھی انکشاف کیا کہ لیاری میں اسلحہ اور منشیات کی کھیپ کس راستے اور کہاں کہاں سے آتی ہے ، اسے کون بھیجتا ہے اور اس کی ڈلیوری کون لیتا ہے، ملزم نے لیاری میں انتخابات کے دوران کرائے جانے والے بم  دھماکوں کے بارے میں بھی اہم انکشاف کیے ہیں  جبکہ ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لیاری میں کس کس سیاسی اور مذہبی جماعت کے لوگوں نے پناہ لی ہوئی ہے اور وہ لیاری سے جا کر شہر کے کس کس علاقے سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور کہاں کہاں انھوں نے معصوم شہریوں کو بلا وجہ صرف لسانی بنیاد پر قتل کیا ہے ، ملزم باقر بلوچ سے تفتیش جاری ہے تاہم شبہ ہے کہ ملزم سے کی جانے والی تفتیش منظر عام پر نہ لائی جائے۔