تصویر قائد تحریک الطاف حسین کا کہنا ہے کہ  ایک ہفتے قبل برطانوی پولیس نے میرے گھر پرچھاپہ مارا۔ برطانوی پولیس نے کئی گھنٹوں تک میرے گھر تلاشی لی۔ برطانوی پولیس میرے گھرسے بہت سارا سامان اپنے ساتھ لے گئے۔ برطانوی پولیس چھاپے میں کیا لے گئی مجھے نہیں پتا۔ درخواست کے باوجود برطانوی پولیس نے سامان کی لسٹ نہیں دی۔

مخالفین کو برداشت نہ کرتے تو عامر اور آفاق زندہ کیسے ہوتے۔ ایک بار تنظیمی خلاف ورزی پر عمران فاروق کو معطل کیا۔ مجھے عمران فاروق کے قتل میں ملوث کرنے کی سازشیں بند کی جائیں، انہوں نے برطانوی حکومت کو تنبہہ کرتے ہوئے کہا کہ سازشیں بند کی جائیں اسی میں برطانیہ کی بہتری ہے۔

لندن سے ٹیلی فونک خطاب میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کارکنوں اور ہمدردوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے عمران فاروق کے قتل میں ملوث کرنیکی سازشیں بند کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مجھ پر جو کیسز بنائے جائیں گے، اس کے لیے کسی وکیل کی ضرورت نہیں، میرا ضمیر صاف ہے، اللہ دلوں کا حال بہترجانتا ہے، میں اپنا مقدمہ برطانیہ میں خود لڑوں گا۔

قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کا مزید کہا کہ کسی فرد کو سزا دینی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کیلئے یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ دنیا بھر یہ ہوتا چلا آرہا ہے، دنیا بھر کی ایجنسیاں موجود ہیں عمران فاروق کے قاتلوں کو پکڑاجائے۔ اسٹیبلشمنٹ نے مجھے اور ایم کیو ایم کو بدنام کیا ، ہمارے خلاف پراپگنڈا کیا گیا کہ ہم مخالفین کو برداشت نہیں کرتے، انٹرنیشنل اور نیشنل اسٹیبلشمنٹ نے مجھے خریدنے کی بہت کوششیں کیں، شیر کی طرح ظالموں، جاگیرداروں اور دہشت گردوں کو للکارنے والا صرف ہے۔

الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور دنیا بھر نے طالبان کو روس سے لڑنے کیلیے پیسہ دیا، طالبان جیت گئے اور تب سے اب تک طالبان کا ردعمل سب کے سامنے ہے ، انہوں نے کہا کہ دنیا میں کئی انقلابی رہنما کامیاب نہیں ہوئے، دنیا میں کئی رہنما معاشرے میں بے لگام کیپٹل ازم سے بچنے کا درس دیتے تھے، برطانوی مظالم کے باعث کئی آزادی کی تحریکوں نے جنم نے لیا۔ “جارج گیلوے، لارڈ نذیراور عمران خان” کو میرے خلاف استعمال کیا، مجھ پر عمران فاروق کے قتل کے الزامات لگائے گئے، کروڑوں عوام سے پیار کرنے والے کے گھر پر چھاپا مارا گیا ، میرے لیے یہ بات گوارا نہیں کہ الزامات کے بعد قیادت سنبھالے رہوں، جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا اتحاد، اتفاق کیساتھ رابطہ کمیٹی متحدہ کو چلاتی رہے۔

الطاف حسین نے خطاب میں مزید کہا کہ ملک ٹوٹنے پر لوگ کہتے تھے اچھا ہوا بوجھ ختم ہوا،مجھے مار دیا جائے تو میرے لیے دعائے خیر کرنا۔ پاکستان میں انقلاب کا داعی ہوں۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے کبھی قانون نہیں توڑا، نہ توڑوں گا۔ اگر 5 آدمیوں کیساتھ مل کر کسی کا خون کرتا ہوں تو سزا صرف مجھے ملنی چاہیے؟ کارکن بتائیں فیصلہ واپس لے کر دنیا کو کیا جواب دوں؟۔