تصویر

 بنگلا دیش کے متنازع کرائم ٹریبونل نے جماعت اسلامی بنگلادیش کے سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد کو بھی 1971ء کے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

یاد رہے کہ 2 روز قبل جماعت اسلامی بنگلادیش کے سابق سربراہ 90 سالہ پروفیسر غلام اعظم کو 90 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جماعت اسلامی بنگلا دیش کے 65 سالہ سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد پر1971ء کی جنگ کے دوران قتل عام، تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور اغوا سمیت سات مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عدالت نے علی احسن کو 5 جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔

علی احسن خالدہ ضیا  کی حکومت میں 2001ء سے 2006ء کے دوران کابینہ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

رہنماؤں کو سزاسنائے جانے کے خلاف بنگلا دیش میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ڈھاکا میں آج مسلسل تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال ہے۔

Bangladesh

گزشتہ روز پولیس نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ درجنوں افراد کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی اور اپوزیشن بنگلا دیش نیشنل پارٹی(بی این پی) کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ٹریبونل کو انتقام کے لیےاستعمال کررہی ہیں۔

دائیں بازو کی جماعتوں کا ٹریبونل کے فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے مقدمے کی سماعت میں عالمی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومین رائٹس واچ‘ کا کہنا ہے کہ ٹربیونل نے اپنی قانونی کارروائی کے دوران جو طریقہ کار اپنایا وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں۔

وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے قائم کیا جانے والا کرائم ٹریبونل عالمی معیار کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے اول روز سے ہی متنازع قرار دیا جاچکا ہے۔

غیرملکی میڈیا بھی مذکورہ ٹریبونل پر کھل کر تنقید کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد نے اپنے سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے یہ ٹریبونل قائم کیا ہے اور اس طرح کے اقدامات سے بنگلادیشں میں انصاف کا تماشہ بن گیا ہے۔