سندھ میں غذائی قلت، بچوں کی نشوونما بُری طرح متاثر

تصویرادارہ پائیدار ترقی کے مطابق سندھ کے صرف 6 اضلاع میں خوراک کی پیداوار اطمینان بخش جبکہ دیگر تمام اضلاع میں صورتحال تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ ڈاکٹر وقار کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں نے صورتحال کی نشاندہی کر دی تھی مگر حکومت نے نوٹس نہیں لیا۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر نیما عابد نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں 15 فیصد بچے اور 25 فیصد مائیں بدترین غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق غربت، پسماندگی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے 53 فیصد پاکستانیوں کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں۔ صحت کے قومی اور عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت کو دور کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان کا میلینیم ڈویلپمنٹ گولز کا اہداف مشکل ہوجا ئے گا۔ صحت کے قومی اور عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت کو دور کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان کا میلینیم ڈویلپمنٹ گولز کا اہداف مشکل ہوجا ئے گا۔ دوسری جانب ملک بھر کی غذائی ضروریات پوری کرنے والے بیشتر کسانوں کی حالت روز بروز بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ زمین کا سینہ چیر کر فصلیں کاشت کرنے والے یہ کسان آج اپنے ہی بچوں کی بہتر پرورش کے قابل نہیں رہے۔ ٹھٹھہ، بدین، عمرکوٹ، دادو، سانگھڑ اور میرپور خاص اضلاع میں پانی کی مسلسل کمی نے ان کسانوں کی غربت میں اضافہ کر رکھا ہے۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سندھ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ سکھر کے سرکاری ہسپتال میں گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران بچوں کو بہتر خوراک نہ ملنے کے باعث مختلف بیماریوں کے 90 کیسز رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں غربت کے باعث مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے بچوں کی نشونما بہتر نہیں ہو پا رہی۔ سکھر کے سرکاری غلام محمد مہر ہسپتال میں گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران 90 بچے لائے گئے جن کی بہتر خوراک نہ ملنے کے باعث نشوونما ٹھیک نہیں ہو پائی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بہتر غذا نہ ملنے کی وجہ سے بیمار بچوں کی تعداد سکھر اور اس کے نواحی علاقوں میں کہیں زیادہ ہے جبکہ ہسپتال میں صرف وہ کیسز رپورٹ ہوئے جن بچوں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا۔ نہ صرف ایسے بچے بلکہ وہ مائیں بھی جو دوران حمل متوازن غذا سے محروم رہتی ہیں۔ ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے شروع سے ہی کمزور اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ سکھر شہر کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں صورت حال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ حکومت نے صورت حال سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے تو بیمار بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s