کراچی،ہزاروں ایکڑزمین پرقبضےکاانکشاف،سرکاربھی ملوث ہے،ریوینوحکام

تصویربورڈ آف ریونیو نے سپریم کورٹ کے روبرو اعتراف کیا ہے کہ کراچی میں دس ہزار پانچ سو پندرہ ایکڑ سے زائد اراضی پر قبضہ ہے۔ زمینوں پر قبضے میں سرکاری ادارے بھی ملوث ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جاری امن وامان عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران بورڈ آف ریوینو حکام  نے اپنا بیان جمع کرایا۔ حکام کے مطابق کراچی کے 93 میں سے 87 دیہوں کا ٹوپو گرافیکل سروے کیا گیا اور67 کے نقشے مکمل کرلیے گئے۔ بورڈ آف ریوینو حکام کے مطابق کراچی میں 10 ہزار515 ایکڑ زمین زیرقبضہ ہے۔ 

زمینوں پر قبضے میں سرکاری ادارے بھی ملوث ہیں ۔ جن میں کے پی ٹی، ڈی ایچ اے، پورٹ قاسم اتھارٹی اور ملیر اتھارٹی بھی شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت پرسندھ کے 11 اضلاع میں کل 870 دیہوں کا ریکارڈ جلایا گیا تھا، 695 دیہوں کو ریکارڈ مرتب کرلیا گیا۔ جسٹس انور ظہیرجمالی کا کہنا تھا کہ زمینوں کے معاملے میں لوگوں کیساتھ ناقابل تصورزیادتیاں ہوئی ہیں۔ 

عدالت کا کہنا تھا کہ سینیر ممبر بورڈ آف روینیو کہاں ہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سینیر ممبر بورڈ آف روینیو گردے کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ جسے زیادہ بیماری ہوتی ہے اسے سینیر ممبر بورڈ آف روینیو لگا دیا جاتا ہے۔ جس پر عدالت نے بورڈ آف ریونیو کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی متحرک شخص کو تعینات کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے سندھ کی زمینوں کا سروے مکمل کرنے کیلئے 4ماہ کا وقت دیتے ہوئے صوبے بھر کی زمینوں کا سروے 4ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے 90فیصد مختیار کار نااہل ہیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s