تصویرڈینگی اور کانگو سے ہونے والی ہلاکتیں شہریوں کے لیے باعث تشویش ہے۔ ڈینگی وائرس سے رواں سال چار ہلاکتیں ہوئیں تو دوسری جانب کانگو وائرس کے کیسز بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ کراچی میں کانگو وائرس سے بھی چار مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈینگی سیل کے ترجمان ڈاکٹر شکیل نے بتایا کہ کانگو وائرس جانوروں پر چپکے مخصوص کیڑے کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ مویشیوں کے آس پاس رہنے والے افراد میں اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل ملک ترجمان ڈینگی سرویلنس سیل سندھ ڈینگی اور کانگو سے ہلاکتوں پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ جتنی بھی وائرل بیماریاں ہیں۔ ان کی تشخیص کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ایسی لیب نہیں ہے۔ حکومت کو اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ کراچی کے شہریوں کے سر سے ایک بیماری کا خوف اترتا نہیں کہ دوسری سامنے آ جاتی ہے۔ بدقسمتی یہ کہ سرکاری سطح پر وائرل ڈیزیز کی تشخیص کے لیے بھی کوئی بندوبست نہیں۔ وائرل بیماریوں سے شہری اگر بچ جاتے ہیں تو اس میں انتظامیہ کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ صرف شہریوں کی خوش قسمتی ہے۔