تصویربرطانوی حکومت نے اساتذہ، ڈاکٹروں اور ہوائی اڈّوں کے عملے کو خبردار کیا ہے کہ وہ سکولوں میں موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران جبری شادیوں کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔ وزرات خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ نوجوانوں کو چھٹیوں کے بہانے ملک سے باہر لے جا کر شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ان واقعات میں سکولوں کی چھٹیوں کے دوران تیزی دیکھی جاتی ہے۔ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کے جبری شادیوں کے حوالے سے خصوصی دفتر نے گزشتہ سال جون سے اگست کے دوران ایسے 400 واقعات کی نشاندہی کی تھی۔ حالیہ اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً 5 ہزار برطانوی بچوں کو جبری شادی کرنی پڑتی ہے۔ ان میں سے ایک تہائی کی عمر 16 سال سے کم ہوتی ہے۔ حکومت سے اس معاملے میں آگاہی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور ایک تجویزی فون لائن قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ متاثرین کے لیے معلوماتی کارڈ بھی جاری کیے جائیں گے۔ دفترِ خارجہ کے مارک سمنڈز کا کہنا تھا کہ گرمیوں کی چھٹیاں ہی وہ وقت ہے جب نوجوانوں کو ملک سے باہر لے جا کر ان کی زبردستی شادی کرنے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بات غلط ہے کہ جن نوجوانوں کو اپنے امتحانوں اور تعلیم کے بارے میں سوچ رہے ہونا چاہیے وہ خوف اور غلامی کی زندگی میں پھنس جاتے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم چیرٹی کی بانی کارکن انیتا پریم کا کہنا تھا کہ یہ اہم ہے کہ کسی شادی میں شرکت کے لیے ملک سے باہر جانے والے نوجوانوں کو یہ معلوم ہو کہ یہ ان کی اپنی شادی بھی ہو سکتی ہے اور انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی مشکل میں وہ کس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے امیگریشن کے وزیر کرس برائنٹ نے اس موضوع پر آگہی بڑھانے کا خیر مقدم کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سکولوں کی چھٹیاں شروع ہوئے کئی ہفتے ہو چکے ہیں۔ بہت بہتر ہوتا اگر ہوم آفس سے اقدامات سکولوں کی چھٹیاں شروع ہونے سے پہلے کرنے کا سوچتا۔ برطانوی حکومت اس سلسلے میں سکاٹ لینڈ کی مثال کی پیروی کرنے کے بارے میں منصوبہ بھی جاری کرنے کو ہے جہاں جبری شادی کروانا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ ایسے اقدام کے ذریعے بچوں کی جبری شادی کرنے والدین کو قید کی سزا دی جا سکے گی۔