تصویر

مقبوضہ کشمیر کے علاقے جموں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے جاری مسلم کش فسادات کے خلاف پیر کو احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال کی گئی۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض انتظامیہ نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو سرینگر میں ایک پر امن احتجاجی مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے گرفتار کرکے کوٹھی باغ پولیس سٹیشن میں نظربند کردیا تاہم مارچ کی قیادت لبریشن فرنٹ کے دیگر رہنماؤں نے کی اس موقع پر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ بڈشاہ چوک میں مظاہرین پر بھارتی پولیس کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کئی افراد زخمی ہو گئے، پولیس نے لبریشن فرنٹ کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

 

 

پلوامہ میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے جبکہ جموں میں تشدد کے خلاف بانڈی پورہ میں مکمل ہڑتال کی گئی، مقبوضہ کشمیر بارایسوسی ایشن نے بھی ہائی کورٹ کی عمارت میں احتجاجی مظاہرے کیے اور علاقے میں جاری دہشت گردی ختم کرنے کا مطالبہ کیا، ادھر جموں کٹھوعہ سامبا ،ادھمپور ریاسی راجو ریکشتواڑ اور ڈوڈہ کے اضلاع میں پیر کو بھی کرفیو جاری ہے۔جموں اور راجوڑی میں بدستورکرفیو نافذج رہا، موبائل سروس بند کردی گئی۔ مظاہروں کے دوران فوج کی سرپرستی میں ہندو ایجنٹوں نے کشمیریوں کی املاک کو نذرآتش کردیا۔ ادھر پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہی کشمیر کے وزیرِداخلہ سجاد کچلو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

 

دریں اثناء قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں شبیر احمد شاہ ،نعیم احمد خان اور ظفر اکبر بٹ کو مسلسل پانچویں روز بھی گھروں میںنظربند رکھا۔ مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور بزرگ کشمیری حریت رہنماء سید علی گیلانی نے کشتواڑ اور صوبہ جموں میں فرقہ وارانہ مسلم کُش فسادات پر شدیدغم وغصہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ، پولیس اور بھارت نواز سیاست دان علاقے کے مسلمانوں کی مشکلات پر خاموش تماشی بنے ہوئے ہیں۔

 

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جموں کشمیر میں تشدد کے حالیہ واقعات پر افسوس کااظہار کیا ہے۔