تصویرنام کے سکندر نے کام بھی سکندروں والا کرڈالا لیکن انجام سے خود کو نہ بچا سکا۔ اسلام آباد میں ہالی ووڈ کی یہ فلم پورے چھ گھنٹے تک جاری رہی۔ وفاقی دارالحکومت کے بیچوں بیچ یہ ہلچل کیسی ہے؟ یہ کون شخص ہے جو چیخ چیخ کرپکار رہا ہے کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے۔ اسلام آباد کی سیکیورٹی ایجنسیز شاید کسی بڑے حملے سے نمٹنے کے لیے تیار ہوں لیکن انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ایک شخص انہیں چھ گھنٹے تک تگنی کا ناچ نچادے گا۔ سکندر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ریڈزون میں ایسے گھوم رہا تھا جیسے یہ اس کے گھر کا لان ہو۔ سکندر نامی ون مین آرمی کلاشنکوف اور ایس ایم جی سے لیس تھی۔ یہ ہاتھی کے دانت صرف دکھانے کے لیے ہی نہیں تھے بلکہ سکندر نے اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ اس کے مطالبات میں موجودہ حکومت کا خاتمہ، ملک میں شریعت کا نفاذ اور محفوظ راستہ دیا جانا شامل تھا۔ اس حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز کے سکندر کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ ایوان صدر کے قریب ہی صحیح لیکن چھ گھنٹے گزارنا بہرحال دشوار ہے، لیکن اس کا توڑ بھی سکندر نے سگریٹ اور انرجی ڈرنکس کی صورت میں نکال لیا۔ رات ہوئی تو موصوف کے لیے روشنی کا انتظام بھی کیا گیا۔ چھ گھنٹے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان سے رہا نہ گیا اور کرائم سین پر پہنچ کر آوٴ دیکھا نہ تاوٴ، سکندر کو دبوچنے کی کوشش کی۔ ملزم سکندر، زمرد خان کے قابو میں تو نہ آیا لیکن نشانہ بازوں نے یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور فائر کھول دیئے، دو گولیاں لگنے کے بعد ملزم زمین پر گر گیا اور چھ گھنٹے طویل ڈرامہ اختتام کو پہنچا۔ اگر سکندر نہ ہوتا تو زمرد خان ہیرو بن کر نہ ابھرتے۔