تصویرپنجاب میں دریاوٴں کی تباہ کاریاں جاری ہیں، دریائے چناب ، سیالکوٹ کے نالہ ڈیک، نالہ ہسری اور نالہ ایک میں طغیانی سے ساڑھے تین سو کے قریب دیہات زیرآب آگئے، مرید کے میں نالہ ڈیک کا پل ٹوٹ گیا۔دریائے سندھ میں ہیڈ تونسہ کے مقام پر بڑا سیلابی ریلہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گزرے گا، لیہ، مظفر گڑھ، تونسہ اور راجن پور کے سینکڑوں دیہات کو وارننگ جاری کردی گئی ہے۔مظفر گڑھ میں دو بہنیں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔دریائے چناب میں آنیوالے سیلابی ریلے سے حافظ آباد میں کوٹ سلیم، چھنی سلطان، چھنی گلہ، برج الٰہی، برج یہاں، اونچا کالا، کوٹ کمیر سمیت پچاس دیہات زیر آب ہیں، دریائے چناب میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود متعدد دیہات کا تاحال زمینی اور مواصلاتی رابطہ بحال نہ ہوسکا، وزیراعلیٰ پنجاب نے احمدپور سیال میں متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ امدادی کاموں میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، متاثرین سیلاب کا کہنا ہے کہ انہیں کسی قسم کی کوئی امداد فراہم نہیں کی جارہی ہے۔سیالکوٹ میں نالہ ڈیک اور نالہ ہسری میں طغیانی کے باعث تین سو کے قریب دیہات زیرآب ہیں، پسرور سیالکوٹ روڈ، پسرور نارووال روڈ اور ٹرینوں کی آمدورفت تاحال معطل ہے، مرید کے میں نالہ ڈیک کا پل ٹوٹنے سے اسی دیہات کے سینکڑوں مکین گھروں میں محصور ہوگئے، ۔چالیس سے زائد مکانات کی چھتیں گرگئی ہیں،کامونکی شہر میں پانی داخل ہوگیا ہے۔سیالکوٹ،پسرور اور نارووال میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد ڈوب گئے۔،سیلاب میں ڈوبے متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔دریائے راوی میں سائفن کے مقام پر سیلابی خطرے کے پیش نظر دریا کنارے دیہات کو وارننگ جاری کردی گئی ہے، سیلاب سے متاثر ہونیوالے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔