صحافی تنظیموں کا افغان حکومت سے فیض اللہ خان کی فوری رہائی کا مطالبہ

صحافی تنظیموں کا افغان حکومت سے فیض اللہ خان کی فوری رہائی کا مطالبہ صحافی تنظیموں نے افغان حکومت سے فیض اللہ خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر ملک بھر میں افغان قونصلیٹ پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے ۔منگل کو کراچی پر یس کلب پرکراچی یونین آف جرنلسٹس(دستور )اور کراچی پریس کلب کے تحت نجی ٹی وی (اے آر وائی) کے سینئر رپورٹر فیض اللہ کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا گیا ۔ فیض اللہ چند ماہ قبل غلطی سے افغان سرحد پارکرکے افغانستان چلے گئے تھے جہاں پرگزشتہ روز انہیں چا رسال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ مظاہرے میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا صحافی فیض اللہ پرقائم جھوٹے مقدمات فی الفور ختم کرتے ہوئے جلد رہا کیا جائے اور صحافی فیض اللہ کے معاملے پر تاریکی میں رکھنے پر افغانستان میں موجود پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس( دستور) کے صدر ادریس بختیارنے کہا کہ حکومت پاکستان تمام تروسائل اور بین الاقوامی تعلقات کواستعمال کرتے ہوئے عید سے پہلے فیض اللہ کی رہائی کوممکن بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیرقانونی مقیم تیس پینتیس لاکھ افغانوں کے لیے دستاویز کی کوئی قید نہیں جبکہ غلطی سے اگرکوئی صحافی سرحد پارکرگیا تو اسے چارسال کی سزا سنادی گئی ۔کراچی پریس کلب کے صدرامتیاز خان فاران نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ غیرقانونی مقیم افغانوں اور صحافیوں کے لیے قوانین یکساں نہیں ۔ افغانستان میں پاکستانی قونصلیٹ نے غلط معلومات فراہم کیں اور حقائق کوچھپانے کی کوشش کی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدرساجد عزیز نے کہا کہ فیض اللہ کی رہائی کے سلسلے میں حکومت پاکستان ، صدرپاکستان اور آرمی چیف اپنا کلید ی کردار اداکریں و رنہ صحافیوں کے احتجاج کا دائرہ وسیع ہوجائے گا ۔صحافی فیض اللہ کو عید سے قبل رہا نہ کرنے پر ملک بھر میں افغان قونصلیٹ کے باہر احتجاج پر مجبور ہونگے ۔کے یوجے(دستور) کے جنرل سیکریٹری رضو ان بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے تمام صحافتی اداروں اورتنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فیض اللہ کی رہائی کے سلسلے میں اپنی اپنی کوششوں ا ورکاوشوں کو بروئے کار لائیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر فی الفور صحافی فیض اللہ کو رہا نہ کیا گیا تو پورا پاکستان سراپا احتجاج ہوجائے گا ۔انہوں نے اے آر وائی انتظامیہ کی جانب سے فیض اللہ کی رہائی کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں فیض اللہ کی رہا ئی تک جاری رہنی چاہیں۔

سیکریٹری کراچی پریس کلب عامرلطیف نے کہا کہ یہ سراسرالزام ہے کہ صحافتی برادری فیض اللہ کے معاملے میںغیرجانبردار رہی ۔ ان کا کہنا تھا کہ میںخود پہلے دن سے رہائی کے سلسلے میں پاکستان اور افغان حکام سے مسلسل رابطے میں رہا ۔اور فیض اللہ کی رہائی کے لیے صحافتی برادری نے ہرممکن کوشش کی۔ اے آر وائی کے بیوروچیف احسن شکیل نے کہا کہ فیض اللہ اپنی پیشہ ورانہ مور کی انجام دہی کے لیے شمالی علاقہ جات گیا ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد کی حدود نہایت پیچیدہ ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ غلطی سے سرحد پارکرگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے فیض اللہ پر جاسوسی کے بے بنیاد الزام لگائے جس کو خودوہاں کی مقامی عدالت مسترد کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ اور چوہدری نثار کا کردار انتہائی مایوس کن رہا ۔ جبکہ رحمان ملک نے افغان حکام سے رابطہ کرکے اپنی جانب سے فیض اللہ کی بے گناہی کی ہرسطح پر ضمانت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ مظاہرے میں صحافی برادری کی بڑی تعداد شریک رہی اورافغان حکومت سے فیض اللہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔اس سلسلے کا دوسرامظاہر آج بدھ شام پانچ بجے کراچی پریس کلب پر ہوگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s