مسلم امہ ۔۔۔ سفید ہاتھی

شاہد کاظمی
مسلم امہ ۔۔۔ سفید ہاتھیقدیم کمبوڈیا، تھائی لینڈ، لاؤس اور برما وغیرہ میں سفید ہاتھی کا تذکرہ ملتا ہے۔ سفید ہاتھی کا تذکرہ’’بدھا‘‘ کی پیدائش کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ خواب میں ایک سفید ہاتھی بدھا کی ماں کو ایک پھول دیتا ہے جو بدھا کی پیدائش کی نشانی تھی۔ جسے دنیا نے بعد میں گوتم بدھ کے نام سے جانا۔ اور بدھا نے بدھ مت کی بنیاد رکھی۔ بدھا نے امن و آشتی کا درس دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سفید ہاتھی کو بھی امن و سکون کا نشان سمجھا گیا۔
آج کل کوئی بھی کاروبار، ملازمت، سرمایہ یا کسی بھی اور طرح کا اثاثہ جس کا وجود فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہا ہو ’’سفید ہاتھی‘‘ کہلاتا ہے۔ یعنی اب سفید ہاتھی ایک اصطلاح بن گئی ہے۔ اسی لیے اکثر آپ وطن عزیز کے اداروں کو ان کے نام کے بجائے ملکی معیشت پر’’ سفید ہاتھی‘‘کے طور پر جانتے ہیں۔
2010کے ایک اندازے کے مطابق مسلمان پوری دنیا کی آبادی کا 24فیصد ہیں۔دنیا میں 57 سے زائد اسلامی ممالک یا ریاستیں ہیں جن میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ غیر اسلامی ممالک میں بھی اسلام ایک تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب ہے ۔ امریکہ کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں باقی تمام مذاہب کی نسبت لوگ اسلام کی طرف زیادہ راغب ہو رہے ہیں۔امریکہ میں1200 سے زائد مساجد ہیں جن میں سے کم و بیش80 فیصد پچھلے بارہ برسوں میں قائم ہوئی ہیں ۔
تیل کے ذخائر کے حساب سے جائزہ لیں تو اس وقت تیل کی ذخائر میں پہلے دس ممالک میں سے 7مسلم ممالک ہیں۔ اور پوری دنیا کے تیل کے ذخائر میں سے کم و بیش 70 فیصد مسلم دنیا میں ہیں۔ اسی طرح قدرتی گیس کے ذخائر پر نگاہ دوڑائیں تو پوری دنیا کے پہلے 10 ممالک میں سے 6 مسلمان ملک ہیں۔ اور قدرتی گیس کے کم وبیش 60 فیصد ذخائر مسلم دنیا میں ہیں۔ انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع مسلم دنیا میں ہوتا ہے۔ مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والے لوگ ہیں۔ مسلمانوں کے پاس زکوٰۃ کی صورت میں برابری کا ایک آفاقی نظام موجود ہے۔
اب تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ کیجیے۔ کشمیر ایک مسلمان اکثریتی علاقہ ہے اسی لیے 50 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آزادی حاصل نہیں کر سکا۔ چیچنیا کے معاملے پر روس سے اختلافات کے باوجود پوری دنیا روس کی مخالفت نہیں کرتی کیوں کہ چیچنیا مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ بوسنیا ظلم و بربریت کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وجہ کیا؟ کیوں کہ وہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی کیوں کہ اپنا ہی بنایا گیا پتلا آنکھیں دکھانے لگا تھا۔ شام کے خلاف ایک عالمی محاذ قائم ہے ۔ وجہ کیا ہے؟ بشار الاسد حکومت چھوڑ دے اور دنیا وہاں اپنی کٹھ پتلی لا سکے۔ افغانستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ اس کی بھی وجہ اس کا مسلمان ہونا تھا جو امریکی حاکمیت ماننے پر تیار نہ تھا۔ ایران کو زیر کرنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں کیوں کہ اس کے ایٹمی اثاثے مغربی دنیا کو ایک آنکھ نہیں بھاتے وجہ یہ کہ یہ اثاثے ایک مسلم ملک کے پاس ہیں۔ کچھ مسلمان دوست ہی اس معاملے میں غیروں کے مددگار بھی ہیں۔ پاکستان کی طرف ٹیڑی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے وجہ کیا ہے؟ کیوں کہ دنیا کی ساتویں سب سے بڑی فوج ایک مسلم ملک کے پاس ہے۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ مسلم ملک ایٹمی قوت بھی ہے۔ سوڈان ایک مسلم ملک ہونے کی وجہ سے قیمت چکا رہا ہے۔ لبنان ایک معتدل ملک ہونے کے باوجود ریشہ دوانیوں کا شکار ہے کیوں کہ مسلمان اس ملک میں اکثریت میں ہیں۔ غرض یہ کہ جہاں جہاں مغربی اور خاص طور پر امریکی حاکمیت تسلیم نہیں کی جاتی اسے نشان عبرت بنانے کی ٹھان لی جاتی ہے۔
ان تمام مسائل کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک پوری دنیا میں وسائل و عددی برتری کے باوجود ’ ایک مٹھی‘ نہیں ہیں۔ دنیا انہیں اکیلا اکیلا کر کے رگید رہی ہے۔ باقی ممالک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے سکون کی نیند سو رہے ہیں۔ غزہ میں صرف 13 دنوں میں300 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے لیکن مسلم امہ، نہیں امہ نہیں ، بلکہ’سفید ہاتھی‘ دعاؤں پر آسرا کیے ہوئے ہے۔ خدا نے اس ’سفید ہاتھی‘ کو جتنے وسائل سے نوازا ہے وہ دھرتی پر بوجھ کے سوا اس وقت کچھ نہیں کیوں کہ دنیا ہم سے لے کر کھاتی ہے اور ہمیں ہی آنکھیں دکھاتی ہے۔ OIC اس ’سفید ہاتھی‘کا جدید چہرہ ہے۔ مذمت کی جاتی ہے۔ لفظی احتجاج کیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا مبادا’ صاحب بہادر ‘ برا نا منائیں۔
یہ عملی قدم کیا ہے؟ اس کے لیے روس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ روس اس وقت پوری دنیا میں گیس کے ذخائر کے حوالے سے سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پٹرولیم وسائل سے بھی مالا مال ہے پوری یورپی دنیا کو توانائی کے مقاصد پورے کرنے کے لیے گیس روس فراہم کرتا ہے۔ جب بھی دنیا روس کی مخالفت میں کسی اقدام کا ارادہ بھی کرتی ہے روس یہ سپلائی منقطع کرنے کی دھمکی دے ڈالتا ہے۔ دنیا کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔
اقبال نے بہت پہلے یہ فارمولہ بتا دیا تھا لیکن ہم اس کو آج تک سمجھ نہیں سکے۔۔۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
لیکن ایسا صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی عادت اپنائیں کیوں کہ ابھی تک جو ہم صرف دعاؤں کا آسرا کیے بیٹھے ہیں یہ ہمیں مزید تباہی کی طرف تو لے جائے گا لیکن ترقی کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
بیچ کر تلواریں خرید لیے مصلے ہم نے
بیٹیاں لٹتی رہیں اور ہم دعا کرتے رہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s