گوگل نےبھارتی حساس علاقوں وفوجی تنصیبات کے نقشےظاہر کردئیےامریکی جریدہ’’نیوز ویک‘‘ لکھتا ہے کہ بھارتی حساس مقامات ظاہر کرنے کی غلطی گوگل کے گلے پڑگئی ۔بھارتی تحقیقاتی ادار ے سی بی آئی نے سرچ انجن گوگل کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔رپورٹ کے مطابق گوگل نے حادثاتی طور پر بھارت کے حساس علاقوں اور فوجی تنصیبات کے نقشوں کو افشاء کردیا،بھارت کی درست جغرافیائی معلومات کی خاطرگوگل کیلئے امریکی کمپنی نے نقشہ بنانے کے مقابلے کا انعقاد کیا تھا ۔فاتح نقشہ پاک بھارت سرحد کے قریب پٹھان کوٹ کے وشان کا تھا جس نے وسیع علاقے کو ’’ملٹری ایریا‘‘ کا لیبل دیا۔ جریدے کے مطابق بھارتی حکومت گوگل سے خوش نہیں ہے ۔گوگل کی طرف سے اسپانسر ڈ کیلیفورنیا کی کمپنی نے بھارت کے لئے نقشوں کے مقابلے کا انعقاد کیا ۔گوگل پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے نقشوں کے ذریعے بھارت کے حساس فوجی اڈوں اور تنصیبات کے مقامات کا انکشاف کردیا۔’’میپاتھن2013‘‘ نامی مقابلے کا مقصد گوگل کی شرائط و ضوابط کے مطابق بھارت کے لئے گوگل میپ پر درست جغرافیائی معلومات کا نقشہ بنانا تھا ۔اس مقابلے کے فاتح پٹھان کوٹ کے وشان سائینی تھے، پٹھان کوٹ مقبوضہ جموں کشمیر اور آزاد کشمیر کی سرحد کے قریب ہے،اسی خطے پر پاکستان اور بھارت نے1947سے تین جنگیں لڑی۔اس مقابلے میں پٹھان کوٹ کے نقشے کے علاوہ ایسا کوئی بھی سرحد کے قریب والا نقشہ نہیں،جریدہ لکھتا ہے کہ یہ سمجھ میں آئے گا کہ بھارت کی فوجی تنصیبا ت اس کے نزدیک ہو ں گی اس سے یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ بھارتی حکومت نہیں چاہتی کہ ہر کوئی گوگل میپ کو استعمال کر کے ملٹری تنصیبات کی جگہ پتہ چلائے۔ جب ویشان سائینی نے گوگل میپ کو مقابلے میں اپنا فاتح نقشہ پیش کیا تو اس نے ایک وسیع علاقے کو شامل کرتے ہوئے اسے ’’ملٹری ایریا‘‘ کا لیبل دیا۔جریدے کے مطابق بھارت میں نقشے پراپنی مرضی سے کوئی لیبل نہیںکر سکتا۔ بھارت کا سرکاری ادارہ سروے آف انڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقشوں کو تیار کرے اور اس کی تیاری میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حساس فوجی تنصیبات شہریوں کے لئے ظاہر نہ کی جائیں۔ گوگل نے بھارت میں ایسے کسی مقابلے کے شروع کرنے کے لئے بھارتی ادارے سروے آف انڈیا سے اجازت طلب نہیں کی۔ بھارت میں گوگل کے نمائندے نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قومی قوانین اور سلامتی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہم کسی بھی نجی معاملے سے آگاہ نہیں ہیں اور اس وقت تبادلہ خیال کرنے کے لئے مزید کچھ بھی نہیں ۔ . 2010 میں یہ بات سامنے آئی کہ گوگل اپنے میپس ٹول میں 32مختلف علاقوں کو رکھتا ہے، بھارتی صارفین کشمیر کا الگ نقشہ دیکھتے ہیں جب کہ پاکستانی الگ۔ بھاری خبر رساں ادارے کے مطابق سی بی آئی نے میپاتھن2013کے انعقاد پر گوگل کے خلاف ابتدائی انکوائری رجسٹر کرلی ہے۔امریکی کمپنی کی طرف سے منعقد ہ اس مقابلے پر سی بی آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ قانوناًممنوع قرار دئیے گئے حساس علاقوں اور فوجی تنصیبات کے نقشے بنانے پر کمپنی نے قوانین کی خلاف ورزی کی ۔بھارت کے سروئیر جنرل کی طرف وزارت داخلہ میں شکایت کی گئی جس میں الزام عائدکیا گیا کہ گوگل بھارت میں ایسے علاقوں کے نقشے بنانے میں مصروف ہے جو ملکی نقشے میں نہیں ہیں جس پر سی بی آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا۔سروے آف انڈیا نے گوگل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معلومات کا تبادلہ کریں کہ اس نے وہ کہاں سے حاصل کیں جو حسا س دفاعی علاقوں کی تھی اور عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس کی ابتدائی تحقیق کے بعد یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا جس میں کہا گیا کہ امریکی ایف بی آئی ے کے ساتھ مل کر اس کی پوچھ گچھ کی جائے اور فوجی حکام کو بھی ا س میں شامل کیا جائے۔