خواتین کو سرعام ہنسنے سے منع کرنے پر ترک نائب وزیر اعظم کے خلاف مقدمہجیسا کہ توقع تھی حال ہی میں ترکی کی خواتین کو سرعام اونچا نہ ہنسنے کا مشورہ دینے والے نائب وزیر اعظم بلند آرنچ کے خلاف عورتوں کے لیے کام کرنے والی کارکنوں اور چند خواتین ارکان پارلیمان نے مقدمہ درج کرا دیا ہے۔
درخواست میں حقوق نسواں کے لیے فعال متعدد کارکنان اور ملکی پارلیمان کی کئی منتخب ارکان نے الزام لگایا ہے کہ نائب وزیر اعظم جنسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک قانونی درخواست کی صورت میں استنبول کی ایک عدالت میں درج کرایا گیا۔ درخواست دہندہ خواتین کے بقول بلند آرِنچ نے عوامی جگہوں پر خواتین کو قہقہے لگانے سے باز رہنے کا جو مشورہ دیا ہے ، اس کے بعد سرعام اونچا ہنسنے والی خواتین کو ممکنہ طور پر پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بلند آرِنچ کا تعلق وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی قدامت پسند جماعت اے کے پی سے ہے۔ وہ ایردوآن کے قریبی ساتھی اور اسلامی سوچ کی حامل موجودہ حکمران جماعت کے بانی ارکان میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ خواتین کو پبلک میں اونچا ہنسنے، خاص طور پر قہقہے لگا کر ہنسنے سے پرہیز کرنا چاہیے اور اپنی شرم و حیا کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ان بیانات کے بعد بہت سی ترک خواتین نے آرِنچ کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسی ویب سائٹس پر اپنی ایسی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کر دی تھیں ، جن میں انہیں ہنستے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔