بھارتی کھلاڑیوں کے عجیب و غریب ٹوٹکے

بھارتی کھلاڑیوں کے عجیب و غریب ٹوٹکےبھارتی کھلاڑیوں کا بھی کیا ہی کہنا ہے کبھی میچ کھیلنے کے لئے کوئی نہ کوئی نیا ٹوٹکہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کبھی میچ جیتنے کے بعد بھی اسی سو میں رہتے ہیں کہ ہم میچ اس ٹوٹکے کی وجہ سے جیتے یا پھر کارکردگی سے۔
کرکٹ کے عظیم کھلاڑی سنیل گواسکر بیٹنگ کے لیے میدان پر اترنے سے پہلے اپنے جسم پر کوئی نہ کوئی نئی چیز پہن کر جاتے تھے۔
سچن تندولکر کے ساتھ بھی ایسی کئی کہانیاں وابستہ ہیں۔ وہ ہمیشہ تیار ہوتے وقت اپنا بائیں پیڈ اور بائیں پیر کا جوتا پہلے پہنتے تھے۔
دوسری طرف بھارتی ٹیم کی ’دیوار‘ کہے جانے والے راہل دراوڈ ہمیشہ اپنا دائیں پاؤں میدان میں پہلے رکھتے تھے۔
بھارتی کرکٹ ٹیم کے بہترین اوپنر سری کانت کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران ایک سے بڑھ کر ایک ٹوٹکے ہوتے ہیں۔
۔1983 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف تاریخی میچ کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ٹیم ہار کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور ایسے میں کپتان کپل دیو نے میدان سنبھالا۔ جیسے ہی کپل نے چوکے اور چھکے لگانےشروع کیے ویسے ہی ٹیم کے مینیجر مان سنگھ نے حکم جاری کیا کہ کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلےگا۔
جو جہاں ہے، جیسا ہے، ویسی ہی حالت میں رہے۔ اس وقت سری کانت ڈریسنگ روم کے باہر کافی کا مگ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے۔ مینیجر کے اس حکم کی وجہ سے اگلے دو گھنٹے تک وہ ٹھنڈی ہواؤں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے اسی حالت میں رہے۔
اس دن کپل دیو نے 175 رنز بنا کر ہارتی ہوئی ٹیم کو جتوا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کپل دیو کے رنز اس ٹوٹکے کی وجہ سے بنے یا پھر وجہ کوئی اور تھی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s