وقاص علی
قائداعظم مذہبی تھے یا سیکولرہر چینل 14اگست کی سالانہ گاڑی سجانے کی تیاری کررہا ہے ۔ اسکی تیاری میں دو مختلف خیال کے لوگ مصروف ہیں پہلا خیال ایسے لوگوں کا ہے جنہوں نے پاکستان میں آکسفورڈ یا کیمبرج کا نصاب پڑھا جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو سرکاری اورنجی تعلیمی اداروں کے نصاب پڑھ کر ذرائع ابلاغ کا حصہ بنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ایک طبقہ قائداعظم ؒ کو سیکولر جبکہ دوسرا مذہبی رہنما ثابت کرنے والا ہے ۔ خیر، گاڑی کی سجاوٹ کیلئے قائداعظم ؒ کے فرمودات کی تلاش میں بابائے گوگل کا سہارا لیا گیاکیونکہ 14اگست کی گاڑی صرف قائد اعظم ؒ کے پیڑول سے چل سکتی ہے ۔
میری آفس فیلو نے قائداعظم ؒ کے فرمودات جمع کر لئے جن میں خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی ، انسانی ، معاشرتی اور سیاسی حقوق کا ذکر تھا۔جمع کر دہ تمام فرمودات انگریزی زبان میں تھے ۔ محترمہ نے اپنی بساط کے مطابق جو کام سرانجام دیا وہ قابل ستائش تھا کیوں کہ انہوں نے پاکستان میں آکسفورڈ اور کیمرج کا نصاب پڑھا ہے ۔ چونکہ پاکستان کی 96.5 فیصد آبادی انگریزی کی سمجھ بوجھ سے محروم ہے اور اتنی زحمت ہم نہیں کر سکتے کہ ان کا اردو ترجمہ کرلیا جائے تو طے یہ پایا کہ اردو میں لکھے گئے فرمودات کو بابائے گوگل سے چوری کرلیئے جائیں ۔ لفظ ’’چوری ‘‘پر انگشت بدنداں مت ہو ں کیوں کہ اس وقت مارکیٹ کے 95فیصد چینل صرف چوری پر ہی دوڑتے پھرتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ خیر، جب میں نے بابائے گوگل سے کہا کہ قائداعظم ؒ کے فرمودات پیش کرو تو ایک طویل فہرست سامنے آگی ۔ ان فرمودات میں ، قرآن ، اسلامی ریاست و روایات، حدیث شریف اورغریب طبقے کی فلاح وبہبودشامل تھے ۔ اب دماغ کی گھنٹی بجی اور یہ گھنٹی دونوں طرف بجی تھی ۔ محترمہ نے جب میرے تلاش کیئے فرمودات کو دیکھا تو گوناگوں کہہ پڑیں؛
’’ ان کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ قائد اعظم ؒ سے بڑا مسلمان کوئی نہیں ہے ۔ کیا واقعی قائد اعظم ؒ نے اپنی تقاریر میں اسلامی ریاست و روایات اور قرآن کا ذکر کیا ہے؟ کیونکہ میں نے کبھی قائداعظم ؒ سے متعلق ایسی کوئی تحریر اپنے نصاب یا انگریزی لٹریچر میں نہیں پڑھی ‘‘۔
انگریزی لب و لہجے والی یہ لڑکی ، اپنے روایتی معصومانہ انداز میں بول رہی تھی اورمیرے ذہن میں طبقاتی نظام تعلیم کی تباہ کاری پر مبنی زندہ مثال موجود تھی ۔ بانی پاکستان قائداعظم ؒ پر بھی متفر ق رائے ہیں، اسلامی تعلیمات پر بھی متفرق رائے ، جہاد اور دہشت گردی پر بھی متفرق رائے ، حقوق نسواں پر بھی متفرق رائے ، سیاست اور اسلام پر بھی متفرق رائے اور ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر بھی متفرق رائے۔ طبقاتی نظام تعلیم کا نتیجہ ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑا ہے اور جمہوریت کی چھاتی پر چڑ ھ کر مسلسل منہ بھی چڑارہا ہے ۔
جمہوریت کے دعویدار وفاداری کی بولیاں لگاتے ہیں اور نسبتاًکم اہمیت کے حامل وفادار کو وزارتِ تعلیم سونپ دی جاتی ہے ۔ میڑک یا گریجویشن پاس وزیرتعلیم پہلے خرچ شدہ رقم کے جوڑ توڑ میں مصروف ہوتا ہے جو دوران الیکشن اور پارٹی سے وفاداری کی وجہ سے خرچ ہوتی ہے ۔ باقی رہ گیا نظام تعلیم اورا اسکا نصاب ، تو اسکی کاٹ چھانٹ اور تشکیل کیلئے این جی اوز، ملکی وغیر ملکی پرائیوٹ ادارے موجود ہیں ۔وزیر تعلیم کو مفت کی سروس اور پزیرائی دنوں میں مل جاتی ہے ۔لیکن اس بدبختی کا سارا بوجھ بمع نفرت اور تفریق نئی نسل پر گرتا ہے اور یوں جوانی کی دہلیز پر پہنچ کر آپس میں دست وگریباں ہوتے ہیں۔