وزیراعظم کی زیرِصدارت قومی سلامتی کانفرنس کی اندورنی کہانیوزیراعظم نواز شریف کی زیرِصدارت قومی سلامتی کانفرنس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کلیئر کرائے گئے، علاقوں میں آئی ڈی پیز کو واپس بھجوانے پر غور کررہے ہیں، افغانستان جانے والے آئی ڈی پیز واپس آ گئے ہیں جبکہ کئی طالبان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے آرمی چیف سے سوال کیا کہ شمالی وزیرستان آپریشن میں مزید کتنا وقت لگے گا؟جس پر آرمی چیف نے بتایا کہ فوج وہاں زیادہ دیر نہیں رکے گی، تھوڑے دن درکار ہیں، کوشش ہےکہ علاقے کو جلد از جلد کلیئر کرالیں، جبکہ کلیئر کرائے گئے علاقوں میں آئی ڈی پیز کو واپس بھجوانے پر غور کر رہے ہیں،آرمی چیف نے بتایا کہ افغانستان جانے والے آئی ڈی پیز واپس آگئے جبکہ کئی طالبان گرفتار کر لیے گئے ہیں، آرمی چیف نے گرفتار طالبان کے نام بھی بتائے اور لاشوں کی ویڈیوز بھی دکھائیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تمام طالبان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہے ہیں۔ کانفرنس کے دوران سینیٹر رضا ربانی نے آرٹیکل 245کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 245 کا نفاذ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق نے اپنے کارکنوں کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قبائلی معاشرہ ہے، کسی کو پانی بھی پلا دیں تو اُٹھالیا جاتا ہے۔ اس پر آرمی چیف نے کہا کہ جہاں شکوک و شبہات ہوں وہاں گرفتاریاں کی جاتی ہیں، آپ نام بتائیں اگر وہ لوگ بے گناہ ہوئے تو چھوڑ دیں گے۔ اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کہا کہ آپریشن جلد مکمل اور افغانستان سے تعلقات بہتر کیے جائیں۔ جس پر آرمی چیف نے کہا کہ وہ میاں صاحب کو مشورہ دیں گے کہ افغانستان وفد بھجوایا جائے۔ محمود خان اچکزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورت حال