کراچی آپریشن کو گیارہ ماہ مکمل, 1805 افراد پرتشدد واقعات کی نذر ہو گئےکراچی آپریشن کے 11 ماہ کے دوران 145 پولیس اہلکاروں سمیت 1805 افراد فائرنگ اور پرتشدد واقعات کی نذر ہو گئے۔ گیارہ ماہ کے دوران اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری سمیت دیگر وارداتیں بھی جاری رہیں۔
کراچی میں 5 ستمبر 2013ء کو شروع ہونے والے آپریشن کو گیارہ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹارگٹ کلرز کو لگام نہ ڈال سکے۔ اس عرصے میں 145 پولیس اور 11 رینجرز اہلکاروں سمیت 1805 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں مارچ میں ہوئیں جس میں 318 شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔ کراچی آپریشن کے دوران 55 چھوٹے بڑے بم دھماکے بھی ہوئے۔ 5 ستمبر سے جاری آپریشن میں 86 اغوا برائے تاوان کے مقدمات رپوٹ ہوئے۔ آپریشن میں 1231 بھتہ خوری کی شکایات رپورٹ ہوئیں۔ شہر میں جاری آپریشن کے دوران لوٹ مار کا بازار بھی گرم رہا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ڈکیتی اور سڑیٹ کرائم کی 2874 واردتیں رپورٹ ہوئیں۔ 16379 شہریوں کو ان کے موبائل فونز سے محروم کر دیا گیا ہے۔ 4386 شہریوں کی گاڑیاں چوری یا چھین لیں گئیں۔ کراچی آپریشن کے دوران 21266 موٹر سائیکلیں شہریوں سے چوری یا چھین لیں گئیں۔ دوسری جانب پولیس اور رینجرز کا آپریشن بھی جاری ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مختلف کارروائیوں میں 15000 ملزمان گرفتار ہوئے۔ گرفتار ملزمان میں 90 دہشتگرد اور 250 ٹارگٹ کلرز سمیت 1050 قتل کے ملزمان بھی شامل ہیں۔ سال 2014ء میں پولیس مقابلوں کے دوران 67 دہشتگردوں سمیت 333 ملزمان ہلاک ہوئے۔