پُر تشداحتجاج کا مقصد نواز حکومت کا خاتمہ کرناہے،امریکی اخبارامریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز“ لکھتا ہے کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان سے جانے کی اجازت نہ دینے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف وزیر اعظم نواز شریف سے ناراض ہیں۔ طاہر القاادری اور فوج کے درمیان قریبی تعلقات کی اطلاعات نے کچھ پاکستانیوں میں یہ خدشات پیدا کردئیے کہ قادری کا احتجاج فوجی بغاوت کی طرف لے جاسکتا ہے۔عمران خان نے بھی اپنے دھرنے کی ناکامی کی صورت میں فوجی مداخلت کا عندیہ دیا اور کہا کہ اگر فوج آئی تو اس کی ذمہ داری نواز شریف پر ہوگی۔عمران خان اور قادری نے فوج کے ساتھ رابطوں کی تردید کی ہے۔اور اس خدشے کی حمایت میں بہت کم ثبوت ہیں کہ فوج اقتدار سنبھالے گی۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اس بات پر نواز شریف سے ناخوش ہیں کہ انہوں نے پرویز مشرف کو پاکستان سے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیاہے جنہیںاس وقت غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔وزیر اعظم کو پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جن کے رہنماؤں نے نواز شریف اور عمران خان کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی ہے۔اگر مصالحت کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے تونواز شریف نے کہا کہ وہ 14اگست کو کسی بھی قسم کے احتجا ج روکیں گے۔اخبار نے طاہر القادری اور عمران خان کے احتجاج پر اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھاکہ پنجاب بھر میں پولیس اور نواز شریف کے مخالفین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں جاری ہیں ان جھڑپوں میںپولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئی سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ان پرتشدد کارروائیوں کا مقصد منصوبہ بندی کے تحت نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ تاہم نواز شریف اس کو روکنے کی کوشش میں ہیں۔ طاہر القادری نے پرامن انقلاب کا نعرہ لگا کر شریف برادران کی حکومت ختم کرنے کا اظہار کیا ہے۔پنجاب کی گلیوں میں ا ن کے مسلح حامی رکاوٹیں ختم کرکے پولیس کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ یہ جھڑپیں نواز شریف کے ارد گرد بحران کے احساس کو مزید گہرا کر رہی ہے جن کے اختیارات ملک کی طاقت ور فوجی قیادت کے ساتھ کشیدہ تعلقات سے متاثر ہیں اب وزیر اعظم کو عمران خان اور طاہر القادری کی طرف سے احتجاج کے تسلسل کا سامنا ہے۔عمران خان کے 14اگست کے اسلام آباد میں ملین مارچ کا مقصدعام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج ہے انہوں نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے اس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک نواز شریف نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں مان لیتے۔عمران خان نے اس احتجاج پر بہت کچھ داو¿ پر لگا دیا ہے۔ جب کہ ان کی پارٹی خیبر پختونخوا میں حکمران ہے۔ان کا مقصد نواز شریف کی تبدیلی ہے۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں واضح کہا ہے کہ 14اگست کا احتجاج ایک فیصلہ کن ہوگا۔ نواز شریف نے قانون اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے حریفین کو سخت جواب دیا اورعمران خان کو روکنے کےلئے اسلام آباد میں عارضی طور پر سیاسی مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نواز شریف نے چیلجنز کا سامنا کرنے میں زیادہ ردعمل دکھایا ہے۔آہنی ہاتھ اور نامناسب طریقے نے احتجاج کوروکنے کی بجائے ہوا دی ہے۔ شاید ان ناقدین کے جواب میں گزشتہ روز نواز شریف نے عمران کو احتجاج ختم کرنے اور سیاسی بحران کو مذاکرات کے ذریعے کو حل کرنے پر زور دیا۔قادری کی وطن واپسی نے پاکستانی سیاست کو مزید دھندلا کردیا۔ ان کی واپسی اس عزم سے ہوئی کہ وہ نواز شریف کا تختہ الٹ دیں گے۔لاہور میں ان کے حامیوں کے قتل نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور وہی ان کے احتجاج کا نقطہ بن گیا۔