200 اور 400 ووٹوں سے انقلاب نہیں آتا،لانگ مارچ کرنا تھا انتخابات میں کرلیتے۔ وزیراعظم نوازشریف

میری ٹانگیں کھینچنے والے دراصل قوم کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں، وزیراعظموزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں کہ حکومت پر یلغار کرنے والے بتائیں کہ ہمارا قصور کیا ہے اور کس طرح کا انقلاب چاہتےہیں، ہماری ٹانگیں کھینچنے والے دراصل قوم کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں وژن 2025 کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ ہم نے گزشتہ67 برسوں میں جو بھگتا ہے اس سے آج بھی سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں۔ قوم کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خاتمے، آئین کی بالادستی، عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ترقی کے نکات پر متحد ہیں۔ ایک سال میں کینیڈا سے بھاگ کر انقلاب لانے کے لئے بے تاب لوگ جب انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو انہیں کہیں 100 اور کہیں 200 ووٹ ملتے ہیں۔ 200 اور 400 ووٹوں سے انقلاب نہیں آتا،لانگ مارچ کرنا تھا انتخابات میں کرلیتے۔ انقلاب کا کہنے والے ملک میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہیں اس طرح کے ایجنڈے لانے والوں پر ہنسی آتی ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ ان کو ایجنڈا کس نے دیا ہے؟۔یہ لوگ ملک کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔ ان کی ٹانگیں کھینچنے والے دراصل قوم کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اس معاملے کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم متحد ہے لیکن ٹی وی پر الگ ہی دنیا نظر آتی ہے ایسا لگتا ہے کہ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملک کو درپیش بحرانوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں اور طاہرالقادری بدلہ لینے کی باتیں کرتے ہیں۔ انقلاب اورلانگ مارچ کی باتوں سے اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ آئی ہے۔ حکومت پر یلغار کرنے والے بتائیں کہ ہمارا قصور کیا ہے اور کس طرح کا انقلاب چاہتے ہیں۔ انقلاب تو یہ ہے ایک صدر اور وزیراعظم ووٹ کے ذریعے آیا اور اب دوسرا صدر اور وزیراعظم ووٹ کی طاقت سے آیا ہے، اس طرح کا انقلاب آتا رہا تو پاکستان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ دنیا میں کسی بھی ملک کو کبھی آمریت راس نہیں آئی قوموں نے ہمیشہ جمہوریت سے ہی ترقی کی ہے۔ اس لئے ہمیں یہ فیصلہ کر گزرنا چاہیئے کہ اس ملک کی ترقی کا راستہ جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے قوم سے جھوٹ بول کر ووٹ نہیں لئے جو ہم کرسکتے ہیں وہی بات کرتے ہیں۔ 90 روز میں انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کے پاس خیبر پختونخوا کی حکومت ہے لیکن وہاں تو ان کے وعدے وفا نہیں ہوئے۔ اگر ہمارا کوئی اقدام ملک کے مفاد میں نہیں تو ہمیں بتائیں، وہ پہلے بھی ان کے گھر گئے تھے اب بھی جانے کو تیار ہیں۔ لانگ مارچ ملک میں ترقی کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے لیکن حکومت ان کوششوں کو سبوتاژ نہیں ہونے دے گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s