Amal Alamuddin ہالی وڈ سٹار جارج کلونی کی منگیتر عمل عالم الدین غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات کرنے والے انسانی حقوق کے ماہرین پر مشتمل ٹیم میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ مہینے تحقیقات کا حکم دیا تھا اور لبنان نژاد برطانوی وکیل عمل تین رکنی اس تحقیقاتی کمیشن کا حصہ ہوں گی۔

دروز برادری سے تعلق رکھنے والی عمل کا خاندان لبنا ن میں 1990-1975 کی خانہ جنگی سے بھاگ کر برطانیہ آ گیا تھا۔

عربی، فرنچ اور انگلش زبانوں میں عبور رکھنے والی 36 سالہ عمل نے لندن میں ایک فرنچ سکول سے تعلیم حاصل کی اور وہ آکسفورڈ اور نیو یارک یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ستمبر میں اداکاری اور امن کیلئے کام کرنے والے 53 سالہ کلونی سے اٹلی میں شادی کر لیں گی۔

عمل نے جب ہالی وڈ کے سب سے جانے مانے بیچلر کا دل چرایا تو عالمی میڈیا نے اپریل میں اس خبر کو خوب اچھالا۔

عمل اس طرح کی عالمی تحقیقات اور تنازعات کے حوالے سے کوئی نیا نام نہیں۔ وہ اس سے پہلے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کا جائزہ لینے والے ایک عالمی ٹربیونل کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے شام میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے یو این کے سابق سربراہ کوفی عنان کی معاونت بھی کی۔

ان کے قانونی موکلوں میں یوکرائن کی سابق وزیر اعظم اور وکی لیکس کے متنازعہ بانی جولیان آسانج بھی شامل ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے باقی دو ارکان میں سنیگال کے ڈوڈو ڈینی اور کینیڈا کے عالمی وکیل ولیم شباس شامل ہیں۔

اسرائیل اور امریکا کی شدید مخالفت کے باوجود 47 رکنی یو این ایچ سی آر نے 23 جولائی کو تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے لئے ووٹ کیا تھا۔

یہ فیصلہ یو این ایچ سی آر میں سات گھنٹوں تک جاری رہنے والے ایک ایمرجنسی سیشن کے بعد ہوا، جس میں اسرائیل اور فلسطین نے ایک دوسرے پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کئے تھے۔

تحقیقاتی کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مارچ تک کونسل کے سامنے اپنی رپورٹ جمع کرائیں۔