نفرت انگیز تقاریر،طاہر القادری پر کینیڈامیں مقدمہ ہوسکتا ہے،ماہرینکینیڈا کے اخبار’’وائس آف ٹورنٹو‘‘ نے لکھا کہ پاکستان میںانتہائی ناپسندیدگی اور کینیڈا میں قانونی کارروائی کے خوف سے پاکستانی عوامی تحریک کے سربراہ پیر کے روز اپنی اتوار کی تقریر کے بیان سے مکر گئے جس میں انہوں نے اپنے کارکنوںکو حکم دیا تھاکہ جو بھی انقلاب کو درمیان میں چھوڑے اسے قتل کردو۔قانونی ماہرین کینیڈین شہری کی طرف سے غیر ملکی سرزمین پر نفرت کے جرم اور تشدد پر اکسانے کے معاملے پراب بحث کر رہے ہیں اور یہ سوالات کینیڈا کی پاکستانی کمیونٹی میں کھڑے ہو گئے کہ قادری پر نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے پر کینیڈ ا میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ اخبار نے سوال اٹھا یا ہے کہ کینیڈین حکومت نے اپنے شہری کو لمبی ڈھیل دی ہے اور کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا۔آزاد تجزیہ کار کہتے ہیں قادری کے خلا ف نفرت انگیز تقریر کرنے اور تشدد پر اکسانے پر پاکستان اور کینیڈا میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اخبار نے ان کے عین الفاظ لکھے کہ کوئی بھی جو انقلاب کے بغیر واپس لوٹے اس قتل کردینا ۔اخبار نے لکھا کہ قادری نے اپنے کارکنوں سے کہ ان کارکنوں کو قتل کرنے کی ہدایت کی ہے جو نظام کی تبدیلی کے بغیر واپس لوٹیں۔ کارکن ان کے ہاتھ توڑ دیں جو ان کے مارچ کی راہ میں آئے۔ قتل کرنے اور قتل کی ہدایت دینے کے قادری کے بیان کو قومی میڈیا نے براہ ایک حصے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ان کے الفاظ کواخبارات نے شہ سرخیوں میں شائع کیا۔جس میں کہا گیا کہ ’’جو بغیر انقلاب سے واپس آئے اسے شہید کر دیا جائے‘‘، ایک اخبار نے سرخی لگائی’’ جو بھی انقلاب کے بغیر واپس آئے اسے قتل کر دو‘‘۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے بھی ان کے متضاد بیانا ت کو شائع کیا۔ سعودی عرب کے سب سے بڑے انگریزی اخبار نے لکھا کہ قادری نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ حکومت کے تختہ الٹنے اور نظام کی تبدیلی کے بغیر کوئی واپس نہ لوٹے۔اس کے لئے کارکنوں سے ہاتھ بلند کرا کر عہد لیا۔ اخبار نے لکھا کہ وہ اس حد تک چلے گئے کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر کوئی واپس لوٹا تو اسے شہید کردیا جائے۔اخبار لکھتا ہے کہ اسی تقریر میں وہ اپنے پیروکاروں پر زور دیتے ہیں اپنے ساتھیوںکی شہادت کا بدلہ ان لوگوں کو قتل کرکے لینا جنہیں وہ اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے متضاد بیانات دے کراپنے آپ کو حرف تنقید بنایا۔ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ان کی مقبول ویڈیوز میں سے ایک ویڈیومیں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کس طرح وہ سامعین کو دیکھ اپنا بیان تبدیل کرتے ہیں۔ ویڈیو میں قادری اسلامی علماء کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے توہین رسالت کے قانون کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم اسی ویڈیو میں ایک مغربی صحافی سے بات کرتے ہوئے قادری نے توہین رسالت کے قانون کی طرف سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کردیا اور کہا کہ میرا ناموس رسالت ﷺ کے قانون سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک آمر ضیاء الحق کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔ اخبار نے قادری کے اتوار کی تقریر میں دیئے گئے بیان سے مکرنے پر لکھا کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے تومذاق کیا تھا۔وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ طاہر القادری کا ایجنڈا خانہ جنگی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت قادری کے ایجنڈے کو کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔