عمران خان کے مطالبات اور پھر ۔۔۔۔ یوٹرن!!پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بیانات میں جس طرح تضاد نظر آتا ہے ۔ اسی طرح ان کے مطالبات میں بھی اچھا خاصا تضاددکھتا ہے۔ عمران خان کےمطالبات کیا تھے اور ان میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کا گلہ ہے کہ مئی 2013 کے انتخابات میں انصاف نہیں ہوا اور مبینہ دھاندلیوں کے باعث انتخابات میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔خیبرپختونخواہ میں تو کپتان کی جماعت نے حکومت بنائی تاہم دیگر صوبوں میں تحریک انصاف کا پتہ کٹنے کا گھائو عمران خان سے صرف ایک برس ہی برداشت ہوا اور انہوں نے وفاق کیخلاف علم بغاوت بلند کردیا۔عام انتخابات کے ٹھیک ایک سال بعد 11مئی 2014 کو عمران خان نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر ایک جلسے سے خطاب کیا جس میں انہوں نے احتجاجی تحریک کےاعلان کے ساتھ ساتھ کئی مطالبات بھی کیے۔تمام الیکشن کمشنر زمستعفی ہوں۔ نیا اور آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔ چار حلقوں این اے 122،154،110 اور 125 میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کی جائے۔آئندہ تمام انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت کرائے جائیں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں متعارف کرائی جائیں۔تمام پارٹیاں ایک کمیٹی تشکیل دیں اور جامع انتخابی اصلاحات کا پیکیج سامنے لائیں جس کی پارلیمنٹ قانون سازی کرے۔ ان مطالبات کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف نے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بھی بڑھادیا اور کچھ روز بعد عمران خان نے حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر کان نہ دھرنے پر لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔ کبھی سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی شان میں قصیدے پڑھنے والے عمران خان اب افتخار چودھری کو اپنی تنقیدی توپوں کے نشانے پر رکھتے ہیں تاہم انہوں نے موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک کی زیر صدارت سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن تشکیل دینے اور ان سے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے خطاب میں عمران خان کا یہ مطالبہ بھی مان لیا،تاہم کپتان نے پھر پلٹی کھائی اور کہہ ڈالا کہ پہلے وزیراعظم استعفیٰ دیں کیوں کہ موجودہ سیٹ اپ میں سپریم کورٹ کا کمیشن بھی جانبداری سے کام نہیں کرسکتا، عمران خان نے اس نئے مطالبے کے ساتھ ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی تشکیل کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ لیکن خان صاحب کے اپنے ساتھی جاوید ہاشمی کو عمران خان کا یہ مطالبہ ایک آنکھ نہ بھایا، عمران خان نے ایک بار پھر یو ٹرن لیا اور ٹیکنوکریٹ حکومت کے مطالبے کو اپنی غلطی مان کر غیر سیاسی حکومت کا مطالبہ کردیا۔ عمران خان کے مطالبات اور یوٹرن کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے، آگے کپتان کیا کہتے ہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔