وزیراعظم سے استعفیٰ لینے اسلام آباد جارہے ہیں، عمران خانچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے استعفیٰ لینے اسلام آباد جارہے ہیں، اسلام آباد پہنچ کر شریف خاندان کی بادشاہت ختم کریں گے۔
تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنوں کا آزادی مارچ لاہور سے اسلام آبا د کی جانب رواں دواں ہے جبکہ چیئرکراسنگ پہنچنے پرعمران خان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو آمروں اور بادشاہوں سے نجات دلاکر دم لیں گے،تحریک انصاف قائد کا پاکستان بنانے اسلام آباد جارہی ہے، آزادی مارچ کو غیر آئینی کہنے والے یاد رکھیں کہ دھاندلی سے الیکشن جیتنا بھی غیر آئینی ہے، کہ پنجاب پولیس سے نہیں گلو بٹوں سے خطرہ ہے، پولیس کارکن چھوڑ دے ہمارا احتجاج پرامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013کا میچ فکس تھا جبکہ عوام سے مینڈیٹ چھینا گیا، کشکول توڑنے کی باتیں کرنے والوں نے قرضے لینے کا ریکارڈ توڑ دیا، کشکول تب ٹوٹے گا جب حکمران طبقہ ٹیکس دے گا۔
تحریک انصاف کے آزادی مارچ میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ انتظامیہ نے مارچ کے شرکا کو آگے بڑھنے کے لیے راستے کھول دیئے ہیں اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو بھی ایک جانب کردیا گیا جبکہ آزادی مارچ کی سربراہی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کررہے ہیں اور مارچ میں شریک تحریک انصاف کے دیگر رہنما ایک ٹرک پر موجود ہیں، عمران خان کے لئے خصوصی کنٹینر بنایا گیا ہے جو ان کی تمام ضروریات کے مطابق سہولیات سے آراستہ ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچے گا جب کہ راستے سے مارچ میں مختلف شہروں سے آنے والے قافلے بھی شامل ہوں گے اور اس دوران عمران خان کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے بعض مقامات پر خطاب بھی کریں گے۔
دوسری جانب وفاقی اور پنجاب حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا ہے، اسلام آباد کو فیض آباد، بارہ کہو اور کشمیر ہائی وے سے بند کردیا گیا ہے تاہم جی ٹی روڈ اور کچہری روڈ پر آمدو رفت کے لئے محدود راستہ رکھا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے اسلام آباد میں 25 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی اور کشمیر پولیس کے علاوہ رینجر اور ایف سی کے جوان بھی شامل ہیں۔
تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے سلسلے میں وزارت داخلہ کی جانب سے احکامات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم آفس، سپریم کورٹ، سیکریٹریٹ، ایوان صدر، جوڈیشل کالونی، سرینا چوک، ایمبیسی روڈ اور میریٹ ہوٹل پر مشتمل ریڈ زون میں گزشتہ روز موبائل فون سروس معطل کردی گئی تھی تاہم اب ان علاقوں مین موبائل فون سروس بحال کردی گئی ہے۔
جڑواں شہروں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو اپنے جلسے اور احتجاج کے لئے پہلے انتظامیہ کو مطلع کرنا ضروری ہے تاہم انہیں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے ان شہروں میں جلوس یا احتجاجی مظاہرہ کرنے سے متعلق کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی ان جماعتوں میں سے کسی نے رابطہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے انتطامیہ کو درخواست دینے کی صورت میں فیض آباد یا زیرو پوائنٹ کے قریب آزادی مارچ کرنے کی اجازت دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔