اسلام آبادمیں آزادی،انقلاب مارچ کاپڑاؤعالمی میڈیاکی سرخیاں بن گیاآزادی اور انقلاب مارچ کی سرگرمیوں پر عالمی میڈیا بھی نظر رکھے ہوئے ہے ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مارچ کی شدت میں کمی آگئی ہے ۔ ہفتے کے اختتام تک اصل صورت حال واضح ہوجائے گی۔ عالمی اخبارات بھی اسلام آباد میں دھرنوں کو نمایاں اہمیت دے رہے ہیں، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سرخی جمائی ہے کہ آزادی کا سونامی اور انقلاب بھیگ گیا ہے۔

اخبار کے مطابق مارچ حکومت کیلئے خطرہ ہے تاہم شدت میں کمی آگئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ ایک بڑے ہجوم کے ساتھ اسلام آباد آنے کا دعویٰ کررہے تھے، لیکن کپتان کے پیچھے آنے والوں کی تعداد توقع سے کم ہے۔

خراب موسم کی وجہ سے کئی شرکاء ساتھ چھوڑ گئے، اخبار کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے دوران مارچ کو عوامی سطح پر بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کا جھکاو فوج کی طرف ہے، طاہر القادری پہلے بھی حکومت گرانے کی کوششیں کرچکے ہیں۔

اسلام آباد میں طاہر القادری اور عمران خان کی آمد سے نواز کے حامیوں پر مارشل لاء کا خطرہ منڈلانے لگا ہےم، تاہم مارچ کی اجازت دیئے جانے کے حکومتی اقدامات نے غیریقینی صورت حال بہتر بنائی۔ وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کی ایک ساتھ شرکت نے فوج اور حکومتی میں دوری کا تاثر بھی ختم کیا۔ اخبار کے مطابق انقلاب اور آزادی مارچ کی اصل صورت حال ایک دو روز میں واضح ہوجائے گی۔