سول نافرمانی تحریکیں سیاسی قائدین کا مہلک ترین ہتھیارانسانی تاریخ میں حکومتوں کے خلاف سول نافرمانی کی تحریکیں سیاسی قائدین کا مہلک ترین ہتھیار رہی ہیں۔
سب سے زیادہ سول نافرمانی کی تحریکیں برطانوی راج کے خلاف چلیں۔ 1919ء میں وفادا پارٹی نے مصر اور سوڈان سول نافرمانی کی تحریک چلائی جس کے تین سال بعد برطانیہ نے مصر کو تسلیم کیا اور 1923ء میں ملک کا پہلا آئین بنا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے قائد مجیب الرحمان نے حکومت کو 1970ء کے انتخابات کو قبول کرنے کے لئے عوام کو سول نافرمانی کی کال دی تھی۔ اس تحریک کے دوران ڈھاکا سمیت مشرقی پاکستان میں پہیہ جام ہو گیا۔ تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر، سکول، بینک اور کاروباری مراکز بند ہو گئے۔ عوام نے حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی بھی بند کر دی۔ ٹیلی فون اور ٹیلی گرام کا مشرقی اور مغربی پاکستان میں رابطہ بھی منقطع ہو گیا جس کے بعد فوجی آپریشن ”سرچ لائٹ ” کا آغاز ہوا اور اس کا نتیجہ بالآخر بنگلہ دیش کی صورت میں نکلا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سول نافرمانی کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔ پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک آج تک نہیں چل سکی۔ عمران بہت آگے چلے گئے تھے۔ اب واپسی کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ تجزیہ کار ایاز امیر کا کہنا ہے کہ عمران خان سول نافرمانی کی کال دے کر تحریک کا ٹمپو نیچے لے آئے ہیں۔ کہاں نواز شریف کا استعفیٰ اور کہاں سول نافرمانی کی تحریک کی کال، یہ تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔ تجزیہ کار حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک آج تک نہیں چل سکی۔ عمران بہت آگے چلے گئے تھے، اب واپسی کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ نذیر ناجی کا کہنا ہے کہ عمران خان اب راستہ ڈھونڈیں گے کہ کس راستے سے واپس جانا ہے۔ سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا، سیاسی معاشرے میں سول نافرمانی نہیں ہوتی۔ عمران قوم کا نقصان نہ کریں جبکہ نواز شریف بھی جمہوری کلچر اپنائیں۔ تجزیہ کار ارشاد احمد عارف کے مطابق عمران خان چاہتے ہیں کہ حکومت گر جائے لیکن الزام بھی ان کے سر نہ آئے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ اب قانون اور آئین کی بات ختم گئی۔ سیاسی بات رہ گئی ہے جیسے نواز شریف نے الیکشن کی رات وکٹری سپیچ کر دی تھی۔ اسی طرح عمران نے بھی وزیراعظم عمران خان کا اعلان کر دیا۔ پروگرام میں شریک مولانا طاہر اشرفی اور صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا کہ اگر سول نافرمانی کا آغاز کرنا تھا تو یہ سب سے پہلے خیبر پختونخوا حکومت اور اسمبلیوں سے استعفی دیتے۔