آزادی ، انقلاب مارچ نے دیگر اہم ایشوز غائب کر دئیےوفاقی دارالحکومت میں آزادی اور انقلاب مارچ کی وجہ سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ، آئی ڈی پیز ، پرویز مشرف ، این آر او خارجہ اور داخلی معاملات ، مہنگائی ، بے روز گاری ، لوڈ شیڈنگ ، کرپشن اور کئی دیگر اہم ایشوز پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق دنیا کی اکلوتی مسلم ایٹمی قوت پر دنیا بھر کی نظریں تو ویسے بھی ہر وقت رہتی ہیں اور اب ان نئی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ خبریں منظر سے غائب ہی ہو گئی ہیں ، جو ان مارچوں سے پہلے زبان زد عام اور سب سے اہم سمجھی تھیں۔ آزادی اور انقلاب مارچ سے پہلے سیاست دان اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شمالی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع شہر بنوں کے دورے کر رہے تھے جس وجہ سے متاثرین کے مطابق ان کے مسائل کسی حد تک حل ہو رہے تھے۔ 54 ہزار خاندان کن حالات میں ہیں ، اس بارے میں حکومت ، حزب اختلاف میں شامل تمام جماعتوں کے رہنما اب خاموش نظر آتے ہیں۔ لانگ مارچ میں شامل رہنماوں کے سمیت کئی لیڈروں نے متاثرین کے دورے کئے اور دوروں کے دوران متاثرین کی مدد کے علاوہ ان کے لیے بڑے منصوبوں کے اعلانات بھی کیے گئے۔ لیکن اب یہ دس لاکھ افراد کن حالات میں ہیں ، کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پہلے ملکی اور بیرونی ذرائع ابلاغ نے بنوں میں ڈیرے ڈال رکھے تھے اور متاثرہ افراد کی خبریں سارا دن ذرائع ابلاغ کو جاری کی جاتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے مسائل حل ہو رہے تھے۔ اب وہ بھی سیاستدانوں کی طرح کہیں نظر نہیں آ رہے۔ سب سے اہم معاملہ پاک بھارت سیکرٹری خارجہ سطح کی ملاقات تھی۔ نریندر مودی نے اپنی حلف برداری پر پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کو مدعو کیا تھا جن کے جانے سے امن کے لیے بہت سی امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔ مگر اب بھارت نے پاکستان کے ساتھ 25 اگست کو ہونے والی سیکریٹری خارجہ سطح کی بات چیت منسوخ کر دی ہے۔ تجزیہ نگاروں نے اس منسوخی پر ایک طرف مودی حکومت پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے تو کچھ انتہا پسند وں نے اسے درست اقدام بھی دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری لیڈروں سے ملاقات کو بہانہ بنا کر اس ملاقات کو ختم کیا ہے ، حالانکہ یہ اقدام غیر معمولی نہ تھا اور ایسی ملاقاتیں ماضی میں بھی ہوتی رہیں۔ 2005 میں بھی جب پرویز مشرف بھارت آئے تھے اور حریت کے رہنماوں سے ملنا چاہتے تھے تو اس وقت کے سیکرٹری خارجہ شیام سرن نے کہا تھا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور جس سے وہ ملنا چاہتے ہیں مل سکتے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس سے دوطرفہ اچھے تعلقات کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ عوامی مسائل کی بات کی جائے تواس وقت آلو کتنے مہنگے ہیں ، بجلی کے بل کس قدر زیادہ آ رہے ہیں ، گیس گھروں میں بھی نہیں رہی ہے ، لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ، بے روزگاری تو ایک مستقل عذاب بن چکا ، بیرونی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن پر عمل سے عام لوگوں سے دو وقت کی روٹی بھی چھن چکی ہے۔ اس میں توکوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ان دھرنوں سے پاکستان کو عالمی سطح پر کتنا نقصان ہو چکا اور ہو رہا ہے ، آئی ایم ایف جیسے ہمارے آقا ناراض دکھائی دیتے ہیں ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کے ہر لمحے آنے والے بیانات کیسے اثرات پیدا کر رہے ہیں اور حکومت کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن دو باتیں عام لوگوں کو حیران ضرور کر رہی ہیں۔ ایک یہ کہ پچھلی اور موجودہ ہر دو حکومتوں نے عوام کو ریلیف دینے کے بلند وبانگ وعدے تو کئے لیکن پورے نہیں کئے۔ اب انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کرنے والے بھی اسی ریلیف کے دعوے کر رہے ہیں۔ دوسری حیران کن حقیقت یہ ہے کہ عوام بھی بھولی ہے ، جو یہ جانتے ہوئے بھی انجان ہے کہ ان مارچوں والے کامیاب ہو بھی گئے تو بھی عام لوگوں کی زندگی میں کوئی فرق آنے والا نہیں۔ کیونکہ ان کی مثال اس بیل جیسی ہے جو چوروں کے پاس ہو یا سادھوں کے اس نے چارہ ہی کھانا ہے۔