دہلی خواتین کے لئے غیر محفوظ شہر

دہلی خواتین کے لئے غیر محفوظ شہربھارت میں سیاحت آسان نہیں،سڑکیں پرشوراور بے ترتیب ہیں، سہولتو ں کافقدان ہے لیکن پھربھی بہت سے لوگ ہندوستان کے اسی رنگ اور متنوع ثقافت کودیکھنے کیلیے یہاں کارخ کرتے ہیں۔
بھارتی دارالحکومت دہلی ہی میں عالمی تنظیم یونیسکوکی فہرست میں مغل بادشاہ ہمایوں کامقبرہ،قطب مینار اور لال قلعے کی شکل میں3عالمی تاریخی یادگاریں ہیں اس لیے یہاں آنیوالے بہت سے سیاحوں کیلیے یہ پہلاپڑاؤہوتاہے لیکن حالیہ برسوں میں دہلی کی شبیہ کودھچکالگاہے،2سال قبل چلتی بس میں طالبہ کاریپ اوراس کی موت پر ملک گیرمظاہرے ہوئے جس کوعالمی میڈیامیں شہ سرخیوں کی جگہ ملی جس سے دنیایہ پیغام پہنچاکہ دہلی خواتین کیلیے محفوظ نہیں اس کے بعدسے دہلی کی ان تاریخی عمارتوں کاانتظام رکھنے والی آثارقدیمہ کی تنظیم آرکیالوجیکل سروے آف انڈیاکے مطابق بیرون سے آنے والوں سیاحوں کے ٹکٹوں کی فروخت میں زبردست کمی آئی۔ادھر حکومت دارالحکومت کوہی آئندہ سال عالمی وراثت قراردیے جانے کیلیے زورلگارہی ہے۔
سیکیورٹی میں بھی اضافہ کیاجارہاہے تاکہ خواتین سیاح خودکومحفوظ محسوس کرسکیں،اے ایس آئی دہلی میں آثارقدیمہ کے سپرنٹنڈنٹ وسنٹ کمارسورنکر نے کہاکہ ہم نے سیکیورٹی کیلیے تاریخی عمارتوں میں پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈزرکھے ہیں جونہ صرف بھیڑ پرکنٹرول رکھیں گے بلکہ بیرون ممالک سے آنیوالے سیاحوں کو حفاظت کے متعلق معلومات بھی فراہم کرینگے،سرکاری اعداد و شمارکے اعتبارسے گزشتہ سال 70 لاکھ سے بھی کم بیرونی سیاح بھارت آئے جبکہ بینکاک اورلندن جیسے شہروں میں اس سے دگنی تعداد میں سیاح آئے،ماہرین کاکہناہے کہ اس شعبے کو دلکش اورپرکشش بنانے کیلیے زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی جارہی، ایک ٹریول سائٹ ٹرپ ایڈوائزر نے خاتون سیاحوں پرمبنی ایک سروے کرایاتھا جس میں 95 فیصدخواتین نے کہاکہ دہلی بھارت میںخواتین کیلیے سب سے غیرمحفوظ جگہ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s