سانحہ بلدیہ ٹاون،جے آئی ٹی رپورٹ خفیہ رکھنے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تحقیقات کا حکم دے دیا

PG16 سانحہ بلدیہ ٹاون کی جے آئی ٹی رپورٹ کراچی پولیس کے افسرایس ایس پی ناصر آفتاب کی جانب سے پولیس کے اعلیٰ حکام سے دانستہ مخفی رکھی گئی ،ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تحقیقات کا حکم دے دیا ،پولیس افسر کی غفلت کے باعث جے آئی ٹی رپورٹ میں نامزد ملزمان کو منظر عام سے ہٹا دیا گیا ،ایس ایس پی ناصر آفتاب کے خلاف پہلے ہی مشکوک حرکات پر تحقیقات جاری ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ملکی تاریخ کے بدترین سانحات میں شامل کراچی کی فیکٹری میں 259مزدورں کو زندہ جلا دینے کا واقعہ بھی آتا ہے ۔جس کا انکشاف رواں سال سندھ ہائی کورٹ میں رینجرز حکام کی جانب سے جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد ہوا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں لگائی گئی ہے ۔زرائع کے مطابق کراچی پولیس کے افسرایس ایس پی ناصر آفتاب نے مذکورہ رپورٹ نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر اپنے پاس جون 2013سے محفوظ رکھی جب کہ جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی رپورٹ پولیس کے اعلیٰ افسران آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ارسال کرنے کی زمہ داری ان کی تھی ۔زرائع نے بتایا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کو اس بات کا علم رواں سال رینجرز کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کے بعد ہوا ۔جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے ۔ایڈیشنل آئی جی کراچی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ایس ایس پی ناصر آفتاب نے رپورٹ مخفی رکھی جس کی تحقیقات جاری ہے اس حوالے سے جو بھی رپورٹ آئے گی تو اس کی روشنی میں مزید کاروائی ہوگی ۔زرائع نے بتایا کہ جون 2013میں پولیس کی جانب سے رپورٹ اعلیٰ حکام کے زریعے عدالت پہنچ جاتی تو ممکن ہے کہ جے آئی ٹی میں شامل تمام ملزمان کو حراست میں لیا جاسکتا تھا تاہم ایس ایس پی کی جانب سے رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال نہ کرنے کی وجہ سے جے آئی ٹی میں شامل ملزمان کو منظر عام سے ہٹا دیا گیااور2015میں رپورٹ عدالت میں جمع ہوئی اور اب ملزمان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیاگیا ہے ۔زرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی ناصر آفتاب کی اس قبل بھی پولیس میں مشکوک حرکات نوٹ کی گئی ہیں جس کا فائدہ ہر بار ملزمان کو جاتا رہا ہے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں ۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11ستمبر2012کی شام کو ایک فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 259مزدور زندہ جل گئے تھے اور سال2013میں پریڈی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ بلدیہ ٹاون فیکٹری میں آگ لگانے میں ملوث ہے جس کی بنیاد پر جوائنٹ انٹعروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں آئی ایس آئی ،آئی بی ،رینجرز،ایف آئی اے اور پولیس کے نمائندے شامل تھے ۔ملزم رضوان قریشی نے اپنا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے بتایا تھا تاہم متحدہ قومی موومنٹ نے رضوان قریشی سے اعلان لاتعلقی کیا ہے ۔#

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s