امریکا میں دہشتگرد قرار دیا گیا ذہین مسلمان طالب علم تعلیم مکمل کرنے کے لئے قطر منتقلامریکا میں استاد کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا گیا ذہین مسلمان طالب علم احمد محمد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ قطر منتقل ہوگیا ہے جہاں وہ اپنی تعلیم مکمل کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی ریاست ٹیکسس سے تعلق رکھنن والا 14 سالہ مسلمان طالب علم احمد محمد اپنے اہل خانہ کے ساتھ قطر منتقل ہوگیاہے، محمد احمد قطر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی اسکالر شپ پر سکینڈری اور ہائیر سکینڈری تعلیم حاصل کرے گا۔
سوڈانی نژاد احمد محمد نے ایک ماہ قبل قطر کا دورہ کیا تھا اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ قطر بہت اچھی جگہ ہے یہاں کے اساتذہ بھی بہت اچھے ہیں وہ یہاں اچھی اور پرسکون ماحول میں تعلیم حاصل کرسکے گا۔
احمد محمد نے امریکی صدر باراک حسین اوباما کی دعوت پر وائٹ ہاؤس کا بھی دورہ کیا تھا، احمد سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر محمد احمد کا نام لیے بغیر لکھا کہ پرتجسس نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، ان کی صلاحیتوں کو دبانا نہیں چاہئے۔
گزشتہ ماہ امریکا کی ریاست ٹیکساس میں مقیم 14 سالہ احمد محمد نے گھریلو گھڑی بنائی اور اسکول لا کر دکھائی تو استاد نے اسے ٹائم بم سمجھ کر پولیس بلالی، پولیس احمد محمد کو گرفتار کر کے لے گئی، تفتیش ہوئی تو حقیقت سامنے آئی مگر کسی نے معذرت بھی کرنا گوارا نہ کی۔
نوعمر طالبعلم کی ناسا کی ٹی شرٹ پہنے ہتھکڑی لگی تصاویر نے امریکا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑادی اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے علاوہ اس طالب علم کی حمایت میں I StandWith Ahmed کا ہیش ٹیگ دنیا بھر میں مقبول ہوگیا اور امریکی صدر باراک حسین اوباما اور فیس بک کے بانی نے بھی اس کی حوصلہ افزائی کی۔