سیکڑوں مقدمات بغیرتفتیش سرد خانے کی نذر ہوگئے ، سپریم کورٹسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وکلا کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت میں عدالت نے وکلاکے قتل کیسز کی تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے سے متعلق ایڈیشنل آئی جی کراچی کی رپورٹ مسترد کردی۔

سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وکلا کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نےتفتیش میں پیش رفت نہ ہونےوالے وکلا کے قتل کیسز کی رپورٹ پیش کی عدالت نے رپورٹ مسترد کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ عدالت نے صرف وکلا کے قتل کی نہیں تمام اے کلاس مقدمات کی تفصیلات مانگی تھی،جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ سیکڑوں مقدمات ہیں جو بغیر تفتیش اے کلاس کردیےگئے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے تین سے چار روز بعد مقدمہ اے کلاس کردیا جاتا ہے۔

عدالت نے کراچی میں سال 2000 سے ابتک تمام اے کلاس مقدمات کی تفصیلی رپورٹ تاریخوں کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ۔