پاک امریکا تعلقات اور نشیب و فرازقیام پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہونیوالے پاک امریکا تعلقات مختلف ادوار میں نشیب و فراز کا شکار رہے۔
لاہور: (ویب ڈیسک، دنیا نیوز) انیس سو چون میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے دورے سے پاک امریکا تعلقات کی بنیاد پڑی۔ دفاعی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔ انیس سو اکسٹھ میں پاکستان نے امریکا کو پہلا خفیہ اڈہ فراہم کیا۔

ایوب خان نے واشنگٹن کا دورہ بھی کیا۔ انیس سو اکہتر کی پاک بھارت جنگ میں امریکی پالیسی اس کے اپنے مفادات تابع ہو گئی اور وعدوں کے باوجود امریکی جنگی بیڑہ مدد کو نہ پہنچ سکا۔ بھٹو دور میں بھی پاک امریکا تعلقات سرد مہری کا شکار رہے۔ انیس سو چوہتر میں اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام منسوخ نہ کرنے پر عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی بھی دی۔

انیس سو ستتر میں امریکا نے الزامات لگا کر پاکستان کی امداد روک دی تاہم افغانستان میں روسی مداخلت پر اسے گھٹنے ٹیکنا پڑے۔ انیس سو اٹھانوے میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو پھر اقتصادی پابندیاں لگا دی گئیں لیکن نائن الیون کے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ نے دونوں ملکوں کو اہم ترین اتحادی بنا دیا۔

پاکستان نے اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں لیکن امریکا کی جانب سے ڈو مور کے مطالبات نہ رکے۔ ڈرون حملوں، ایبٹ آباد آپریشن اور ریمنڈ ڈیوس کیس نے بھی تعلقات پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے۔