سید عاصم محمود

ماضی کے اسرار سے اٹھا پردہ؛ 1962ء میں کشمیر پاکستان کا حصّہ بن جاتاپچھلے دنوں مقبوضہ جموں وکشمیر کے ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریاست کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہی۔یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ریاست پر بھارتی حکمرانوں نے طاقت کے بل پہ قبضہ کر رکھا ہے۔1962ء میں قدرت نے پاکستانی حکمرانوں کو یہ سنہرا موقع عطا کیا تھا کہ محکوم کشمیریوں کو آزادی دلوا سکیں،مگر وہ مصلحتوں کا شکار ہو کر دلیرانہ قدم نہیں اٹھا سکے۔
یہ 20 اکتوبر 1962ء کی بات ہے جب چین نے بھارت پر حملہ کردیا۔ ایک حملہ آکسائی چن (نزد جموں و کشمیر) اور دوسرا ہزار میل دور اروناچل پردیش (نزد آسام) پر ہوا۔ اس حملے نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی کیونکہ دونوں متحارب ممالک ایشیا کی سب سے بڑی عسکری قوتیں تھیں۔دلچسپ بات یہ کہ چند برس قبل تک چین اور بھارت میں ’’ہندچینی بھائی بھائی‘‘ کے نعرے گونجتے تھے۔ بھارتی وزیراعظم، پنڈت جواہر لعل نہرو سوشلزم کی طرف جھکاؤ رکھنے کے باعث چینی کمیونسٹوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ انہوں نے چین کو دوست بنانے کے لیے بہت کوششیں کیں اور کامیاب بھی رہے۔
دونوں ممالک کے مابین سرحدی تنازع چلا آرہا تھا۔ 1956ء میں چینی وزیراعظم، چو این لائی نے بھارت کا دورہ کیا۔ انہوں نے پنڈت نہرو کو بتایا ’’اگر ہمیں آکسائی چن دے دیا جائے تو ہم اروناچل پردیش پر آپ کا ملکیتی دعویٰ تسلیم کرلیں گے۔‘‘ مگر عوامی اور عسکری دباؤ کے باعث نہرو نے یہ تجویز تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ چین اور بھارت کے تعلقات میں بڑی دراڑ نمودار ہوئی۔
1959ء سے لداخ میں چینی اور بھارتی فوج کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اسی سال دلائی لاما تبت سے فرار ہوکر بھارتی شہر دھرم سالہ پہنچے اور وہاں اپنی جلا وطن حکومت قائم کرلی۔ نہرو حکومت دلائی لاما کو ہر ممکن مدد دینے لگی۔ اسی امر نے قدرتاً چینی حکومت کو چراغ پا کردیا۔1960ء میں اختلافات دور کرنے کے لیے چو این لائی نے بھارت کا دورہ کیا۔ جب وہ بھارتی وزیراعظم کی رہائش گاہ پہنچے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ نہرو کی صاحب زادی، اندرا گاندھی نے ان کا استقبال کیا… اور انہوں نے تبتی لباس پہن رکھا تھا۔ گویا یوں دلائی لاما سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ حسب توقع اختلافات دور نہ ہوسکے۔ چناں چہ ضدی اور ہٹ دھرم بھارتی حکمران طبقے کو سبق سکھانے کی خاطر چین نے بھارت پر حملہ کردیا۔
پاکستان کو حملے کی دعوت
جنرل ایوب خان کی حکومت میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پہ رہنے والے قدرت اللہ شہاب اپنی آپ بیتی ’’شہاب نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’بھارت پر حملے سے پانچ گھنٹے قبل چینی حکومت نے پاکستانی گورنمنٹ کو ایک انتہائی خفیہ پیغام بھجوایا۔ اس میں درج تھا کہ چین بھارت پر حملہ کررہا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کو آزاد کرانے کی خاطر ریاست پر دھاوا بول دے ۔ بھارتی فوج چینی و پاکستانی افواج کے حملے نہیں سہ سکتی۔ چناں چہ پاک فوج دو دن میں جموں و کشمیر فتح کرلے گی۔‘‘
مرحوم قدرت اللہ شہاب مزید لکھتے ہیں: ’’صدر مملکت جنرل ایوب خان ابھی حملہ کرنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے کہ امریکی و برطانوی طاقتیں ان پر دباؤ ڈالنے لگیں کہ بھارت پر حملہ نہ کیا جائے۔ ان عالمی طاقتوں نے ایوب خان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بعدازاں بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال کر مسئلہ کشمیر حل کرادیں گی۔‘‘
تاریخ بتاتی ہے کہ آخر پاکستانی صدر نے بھارت پر حملہ نہ کرنے کا ’’متنازع‘‘ فیصلہ کیا۔ یہ متنازع اس لیے کہلایا کیونکہ پاک فوج کے کئی جرنیل حملے کے حق میں تھے۔ ان کی نظر میں چین۔ بھارت جنگ کے دوران حملہ نہ کرکے پاکستان نے جموں و کشمیر ریاست فتح کرنے کا سنہرا موقع گنوا دیا۔ اگر جنرل ایوب کشمیر پر دھاوا بول دیتے، تو عین ممکن تھا، یہ مسلم اکثریتی ریاست آج پاکستان کا حصہ ہوتی۔
کشمیر پر نئے انکشافات
چین بھارت جنگ 20 اکتوبر تا 21 نومبر جاری رہی۔ اس ایک ماہ میں ایشیائی اور عالمی طاقتوں کے مابین جو زبردست اور سنسنی خیز سیاسی کھیل کھیلا گیا، اس کی چند جھلکیاں ایک نئی کتاب “JFK’s Forgotten Crisis: Tibet, the CIA and the Sino-Indian War” میں افشا ہوئی ہیں۔ اس کتاب کے باسٹھ سالہ مصنف ،بروس ریڈل امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے کے سابق اعلیٰ افسر ہیں۔ آپ خصوصاً جنوبی ایشیائی معاملات پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی نئی کتاب میں انہوں نے بعض اہم انکشافات کیے جن کا تذکرہ درج ذیل ہے:
بروس ریڈل کی کتاب کا سب سے بڑا انکشاف یہ ہے کہ اگر 1962ء میں پاکستان جموں و کشمیر پر حملہ کردیتا، تو اس کی جیت کا امکان بہت زیادہ تھا۔تب بھارتی فوج تین طرفہ حملوں میں تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی۔سابق سی آئی اے افسر کی رو سے تب کے امریکی صدر ،جان ایف کینیڈی نے پاکستانی حملہ روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی لیے وہ بھارت میں بہت مقبول ہوئے۔ریڈل لکھتے ہیں:
’’امریکی صدر نے ایوب خان کو دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے حملہ کیا تو اسے بھی چین کی طرح حملہ آور سمجھا جائے گا۔‘‘ اس دھمکی سے عیاں ہے ، چین کو روکنا امریکیوں کے لیے اتنا زیادہ اہم تھا کہ انہوں نے اپنے ایک اہم ساتھی کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لے لیا۔ برطانوی وزیراعظم، ہیرلڈ میکملن نے بھی پاکستانیوں کو ملتا جلتا دھمکی آمیز پیغام بھیجا۔بروس ریڈل کا دعویٰ ہے، ان پیغامات نے پاکستانی صدر کو متوحش کردیا۔ انہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ امریکی و برطانوی حمایت سے محروم ہوکر پاکستان بین الاقوامی سطح پر تنہا رہ جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے کشمیر پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ (اس فیصلے کو ان کے سیاسی مشیروں خصوصاً ذوالفقار علی بھٹو کی حمایت حاصل تھی)۔
ریڈل کا کہنا ہے ،حملہ نہ کرنے کے بدلے میں ایوب خان نے یہ شرط رکھی کہ امریکا مسئلہ کشمیر میں بنیادی کردار ادا کرے۔ وہ چاہتے تھے کہ بعدازاں امریکا بھارت پر یہ دباؤ ڈالے کہ کشمیر پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔ امریکی حکومت یہ کردار ادا کرنے کو تیار نہیں تھی، مگر موقع کی نزاکت کے پیش نظر اس نے پاکستان کا یہ مطالبہ قبول کرلیا۔
چناں چہ ایوب خان کی ایما پر صدر کینیڈی نے انہیں ایک خط لکھا جس میں لکھا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر حل کرنے کی خاطر ہر ممکن کوششیں کرے گا۔ اسی دوران امریکی دباؤ پر پنڈت نہرو نے بھی پاکستانی صدر کو ایک خط لکھا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کرلیا جائے گا۔
جنرل ایوب خان امریکی حکومت سے خاصے ناراض تھے۔ دراصل پاکستان اور امریکا نے یہ عسکری معاہدہ کررکھا تھا کہ اگر چین نے بھارت پر حملہ کیا، تب بھی امریکی حکومت پاکستان سے اجازت لے کر ہی بھارتیوں کو اسلحہ دے گی۔ مگر جنگ شروع ہوتے ہی پاکستانیوں کو بتائے بغیر امریکی بھارت اسلحہ سپلائی کرنے لگے۔بہرحال امریکا اور برطانیہ کی دھمکیوں اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کی یقین دہانیوں کے باعث پاکستان نے بھارت پر حملہ نہیں کیا۔ مگر آنے والے حالات نے ثابت کیا کہ عوامی زبان میں مغربی قوتیں پاکستانی حکومت کو ’’چونا‘‘ لگاگئیں۔

جنگ ختم ہونے کے بعد مسئلہ کشمیر سلجھانے کی خاطر مذاکرات کے دور ضرور چلے، مگر بھارتی حکومت آئیں بائیں شائیں ہی کرتی رہی۔ جب ایوب خان نے امریکا اور برطانیہ کو مدد کے لیے پکارا، انہیں ان کے وعدے یاد دلائے، تو عالمی قوتوں نے یہ عذر تراش لیا: ’’چین سے شکست کھانے کے بعد پنڈت نہرو شدید دباؤ میں ہیں۔ وہ عوام و خواص میں مقبولیت کھوچکے۔ وہ اب اس حیثیت میں نہیں کہ مسئلہ کشمیر حل کرواسکیں۔‘‘
درج بالا واقعات آشکارا کرتے ہیں، اگر 1962ء میں چینی حملے کے وقت پاکستان بھی جموں و کشمیر پر حملہ کردیتا، تو اس کی جیت تقریباً یقینی تھی۔ ایک معزز بھارتی کی آپ بیتی “Beyond the Lines” بھی یہی شہادت دیتی ہے۔ یہ ممتاز بھارتی صحافی کلدیپ نائر کی آپ بیتی ہے جو 1962ء میں وزیر داخلہ (بعدازاں وزیراعظم) لال بہادر شاستری کے پریس سیکرٹری اور بااثر ہستی تھے۔کلدیپ نائر اپنی آپ بیتی میں رقم طراز ہیں: ’’1960ء میں جنرل پران ناتھ تھاپر بھارتی فوج کے کمانڈر بنے۔کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنے وزیراعظم کو یہ رپورٹ دی کہ بھارتی فوج کے پاس بیشتر ہتھیار فرسودہ ہیں۔ یہی نہیں، ہتھیاروں کی شدید کمی بھی ہے۔ اگر اس عالم میں چین یا پاکستان نے حملہ کیا، تو وہ باآسانی بھارت کو شکست دے دیں گے۔‘‘
اب کئی پاکستانیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ 1962ء میں جموں و کشمیر پر حملہ نہ کرکے ایوب خان حکومت سے غلطی سرزد ہوئی۔ لیکن ممکن ہے، تب حالات اس نوعیت کے ہوں کہ حملہ نہ کرنے کا فیصلہ ہی درست سمجھا گیا۔
پنڈت نہرو کی دہائی
اس زمانے میں سویت یونین بھارت کا سرپرست تھا۔ مزید براں کمیونسٹ ہونے کے باوجود چین اور سویت یونین کے تعلقات خراب ہوچکے تھے۔ مگر دلچسپ بات یہ کہ چین۔ بھارت جنگ شروع ہوتے ہی ترجیحات بدل گئیں… سویت یونین نے چین کی حمایت کی، تو بھارت بھکاری بن کر کمیونسٹ مخالف امریکا کے در پر جا پہنچا۔
بروس ریڈل نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ جب پہاڑی علاقوں میں بھارتی فوج کو چینیوں سے مار پڑی تو بھارتی وزیراعظم کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وسط نومبر 1962ء میں حواس باختہ پنڈت نہرو نے پھر امریکی صدر، جان کینیڈی کو پے در پے خطوط لکھے اور عسکری مدد مانگی۔ پنڈت نہرو کا دعویٰ تھا کہ اگر چین جیت گیا، تو ایشیا میں کمیونزم کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
امریکی بھارتی وزیراعظم کے اصرار پر سوچ بچار کرنے لگے۔ ایک عشرہ قبل ہی انہوں نے کوریا میں چینی فوج سے جنگ بندی معاہدہ کیا تھا۔ اب بھارتی وزیراعظم انہیں دوبارہ چینیوں سے جنگ کی طرف دھکیل رہے تھے۔ پنڈت نہرو نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ’’350 جدید ترین لڑاکا و جنگی طیارے‘‘ فراہم کیے جائیں۔ بھارتی وزیراعظم کو یقین تھا، فضائی بمباری کے ذریعے چینیوں کی پیش قدمی روکنا ممکن ہے۔ پنڈت نہرو نے صدر کینیڈی کو یہ یقین دہانی کرائی ’’یہ طیارے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے۔‘‘
امریکا کے علاوہ پنڈت نہرو نے برطانیہ سے بھی عسکری مدد مانگی۔ دونوں ممالک پہلے ہی بھارت کو ہتھیار فراہم کررہے تھے۔ اب بھارتی وزیراعظم کی خواہش تھی کہ دونوں طاقتیں بھی جنگ میں شریک ہوجائیں۔ریڈل نے کتاب میں لکھا ہے ’’اس دوران چین کو بھی اپنے ذرائع سے یہ خبر مل گئی کہ امریکا اور برطانیہ جنگ میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ امر جنگ کو بہت زیادہ پھیلا دیتا۔ اسی لیے چینیوں نے اچانک جنگ بندی کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ حالانکہ پیش قدمی کرتی چینی فوج بہت مضبوط پوزیشن پر تھی۔ وہ چاہتی تو کلکتہ تک پہنچ سکتی تھی۔‘‘
یہ حقیقت ہے، 1962ء کی چین، بھارت جنگ کے دوران پاکستان بدقسمت ثابت ہوا۔ ایک طرف اتحادی عالمی قوتوں نے اسے کشمیر پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔حالانکہ چین کی خواہش برعکس تھی ۔ دوسری طرف وہ قوتیں بھارت کو جدید اسلحہ فراہم کرنے لگیں۔ حتیٰ کہ صدر کینیڈی نے بھارت کو ’’500 ملین ڈالر‘‘ مالیت کے ہتھیار دینے کی منظوری دے دی۔ (مگر صدر کینیڈی کے قتل ہونے سے یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا)۔ یہ اسلحہ بعد ازاں جنگ 1965ء میں پاک فوج کے خلاف استعمال ہوا۔صدر ایوب خان امریکا اور برطانیہ کی چال بازیوں سے نالاں تھے۔ پھر انہیں یقین تھا کہ جنگ 1962ء نے بھارتی افواج کو کمزور کردیا ہے۔ ان دونوں عوامل کی وجہ سے بھی جنگ 1965ء نے جنم لیا۔ افسوس، تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ پاکستان تن تنہا کشمیر نہ لے سکا، تین سال قبل تو اسے چینیوں کا ساتھ حاصل تھا۔
مشہور امریکی صدر،تھیوڈور روزویلٹ کا (1858۔1919) قول ہے ’’آپ اپنے ماضی(تاریخ)سے جتنا زیادہ واقف ہوں گے،مستقبل کی اتنی ہی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گے۔‘‘ امید ہے، موجودہ پاکستانی حکمران طبقہ اپنی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرتا ہو گا تاکہ پچھلے حکمرانوں سے سرزد ہوئی غلطیاں دہرائی نہ جائیں۔