دنیا بھر میں پیش آنے والے خوفناک زلزلوں پر ایک نظرقدرتی آفات میں زلزلہ ہمیشہ خوف کی علامت رہا ہے جس نے متعدد اوقات میں دنیا میں تباہی پھیلائی۔

چھبیس اکتوبر دو ہزار سولہ کوپاکستان سمیت ایشیاء میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر آٹھ اعشاریہ ایک تھی، جس میں متعدد ہلاکتوں سمیت کئی افراد جاں بحق بھی ہوئے۔
نیپال میں پچیس اپریل دو ہزار پندرہ کو آنے والے زلزے کی شدت سات اعشاریہ آٹھ تھی اور اس میں آٹھ ہزار نو سو لوگ لقمہ اجل بنے جبکہ سیکڑوں گھر منہدم ہو گئے۔
گیارہ اگست دو ہزار بارہ کو ایران کے شہر تبریز میں زلزلے کی شدت تقریبا چھ اعشاریہ تین تھی جس میں تین سو چھہ لوگ اپنی جان کھو بیٹھے اور تقریبا تین ہزار لوگ زخمی بھی ہوئے۔
تیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کو ترکی میں سات اعشاریہ دو کی شدت سے زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں چھ سو لوگ اپنی جان کھو بیٹھے اور چار ہزارایک سو پچاس کے قریب زخمی بھی ہوئے۔
دو ہزار آٹھ کو چین میں آنے والے زلزلے جس کی شدت ریکٹر سکیل پر آٹھ ریکاڈ کی گئی اس میں ستاسی ہزار کے قریب لوگ اپنی جان کھو بیٹھے۔
پاکستان میں دو ہزار پانچ میں آنے والا زلزلہ جس کی شدت سات اعشاریہ چھ تھی اس میں تقریبا چھیاسی ہزار لوگ لقمہ اجل بنے اور پچھتر ہزار کے قریب زخمی بھی ہوئے۔
دسمبر دو ہزار چار میں ایشیاء میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں دو لاکھ بیس ہزار لوگ لقمہ اجل بنے۔
ایران میں چھبیس دسمبر دو ہزار تین میں آنے والے زلزلے میں اکتیس ہزار آٹھ سو چراسی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ اٹھارہ ہزار کے قریب زخمی بھی ہوئے۔
انڈیا میں دو ہزار ایک میں آنے والے زلزلے میں پچیس ہزار لوگ اپنی جان کھو بیٹھے جبکہ ایک لاکھ چیھسٹں ہزار زخمی بھی ہوئے۔