بھارت میں پاکستانی نژاد جنوبی افریقن بولرعمران طاہر کو ہوٹل سے باہر نکلنے سے روک دیا گیابھارت میں بڑھتی ہوئی تعصب پسندی اور اشتعال انگیزی نے پاکستانی نژاد جنوبی افریقی کھلاڑی عمران طاہر کو بھی نہ بخشا اور انتظامیہ نے ان کے ہوٹل سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔
بھارت میں بڑھتی ہندو انتہا پسندی نے جہاں بھارتی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کا جینا دوبھر کردیا ہے وہیں بھارت میں مقیم غیر ملکی بھی اس انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھتے نظر آتے ہیں ہے جس کی وجہ سے مودی سرکار دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کے خوف کی وجہ سے بھارت کے دورے پر آئی جنوبی افریقا کی ٹیم انتظامیہ نے ٹیم میں شامل پاکستانی نژاد کھلاڑی عمران طاہر پر ہوٹل سے باہر جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کمرے میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جب کہ عمران طاہر کو بعض تاریخی مقامات کی سیر پر جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
دوسری جانب جنوبی افریقی ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران طاہر کو اس حوالے سے کس بھی قسم کی کوئی ہدایات جاری نہیں کی تاہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران طاہر اپنی اہليہ اور بيٹے كے ہمراہ ممبئی ميں مختلف مقامات اور حاجی علی کی درگاہ پر جانا چاہتے تھے ليكن انہيں ايسا كرنے سے روك ديا گيا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان کے دورہ بھارت کے موقع پر ممبئی میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفترپردھاوا بول دیا تھا جب کہ مودی حکومت کی انتہا پسندی کے بڑھتے واقعات پر خاموشی کے باعث کئی بھارتی ادیب، فلم سازاور سائنسدان اپنے اپنے ایوارڈ حکومت کو واپس کرچکے ہیں۔