کشمیر ہندوستان کا 'اٹوٹ انگ' نہیں، پاکستانپاکستان نے منگل کے روز کشمیر سے متعلق ہندوستانی دعوے جس میں کشمیر کو ‘اٹوٹ انگ’ قرار دیا گیا تھا، کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ متنازعہ علاقہ ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے قونصلر دیار خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہا کہ جموں و کشمیر کا قانونی اور حقیقی پس منظر بالکل واضح ہے اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی ہندوستانی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

دیار خان ہندوستانی مندوب لعل کٹاریا کے تقریر پر ردعمل کا اظہار کررہے تھے جنہوں نے اپنی تقریر کے دوران کشمیر کو ہندوستان کا ‘اٹوٹ انگ’ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے ایک ‘ہندوستانی ریاست’ پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام ‘آزاد اور منصفانہ’ انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

اس پر دیار خان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی کشمیر میں انتخابات کو سیکیورٹی کونسل قبول نہیں کرتا جبکہ کشمیر کی عوام بھی اسے مسترد کرتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان پاکستان کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانے سے روکنا چاہتا ہے اسی وجہ سے اس طرح کے الزامات عائد کررہا ہے۔

پاکستان پر کشمیر پر ‘قبضے’ سے متعلق ہندوستانی الزام کے جواب میں دیار خان نے انڈیا سے درخواست کی کہ وہ یہ سوال کشمیر کی عوام پر چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان ہماری طرح رائے شماری پر عمل درآمد کرتا ہے تو سب کو پتہ چل جائے گا کہ کون حقیقی طور پر کشمیر پر قابض ہے۔