سندھ میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ کی فروخت پر پابندیحکومت سندھ نے 2002 میں تمباکو نوشی کے خلاف قانون پر عملدر آمد کرنے کےلیے کمر کس لی ہے۔ جس کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو سیگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے عمل درآمد کے لیے پولیس کی مدد طلب کر لی ہے۔
تمباکو نوشی صحت کےلیے مضر ہے۔ لیکن اس مضر شےکا استعمال معاشرے میں عام ہے۔ بالاخر حکومت سندھ نے تمباکو نوشی کے خلاف 2002 کے قانون پر عملدر آمد کے لئے کمر کس لی اور 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کو سیگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دکانداروں کے سخت خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ پان گٹکا اور سیگریٹ نوشی کرنے والے بھی اس پابندی کو جائز سمجھتے ہیں لیکن ان اشیاء کے استعمال کو مجبوری بھی قرار دیتے ہیں۔ سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں کے کیفے ٹیریاز پر بھی یہ پابندی عائد کی ہے۔ سیگریٹ فروش کہتے کہ سیگریٹ کی فروخت پر حکومت ٹیکس کی مد میں بھاری منافع حاصل کرتی ہے اور اس پابندی پر عمل درآمد کرانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ صحت نے پابندی پر عملدآمد کرانے کے لیے سندھ پولیس سے مدد طلب کی ہے۔ اس ضمن میں کراچی سمیت سندھ بھر کی جامعات کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں جبکہ مستقبل میں شیشہ کیفے پر عائد پابندی پر بھی سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔