بھارت میں گائے ذبح کرنے کے الزام میں ہندوؤں کے تشدد سے ہلاک اخلاق احمد کے اہلِ خانہ کیخلاف مقدمہ درجھارت میں ریاست اترپردیش کی عدالت نے گزشتہ ستمبر انتہا پسند ہندوؤں کے بہیمانہ تشدد سے ہلاک ہونے والے شخص اخلاق احمد کےاہلِ خانہ پر گائے کے ذبیحہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
بھارت کےشہر دادری کے گاؤں بسیدہ میں 28 ستمبر2015 کو عید الاضحیٰ کے موقع پر اخلاق کے اہلِ خانہ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے پابندی کے باوجود گائے قربان کی تھی۔ ہجوم نے اخلاق احمد کے گھر سے گائے کا گوشت برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جب کہ اخلاق کے اہلِ خانہ کا مؤقف تھا کہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا تاہم اس دوران انتہا پسند ہندوؤں نے اخلاق احمد پر بہیمانہ تشدد شروع کردیا جس سے ان کو موت واقع ہوگئی جب کہ ان کا بیٹا تشدد سے شدید زخمی ہوگیا۔
دوسری جانب بھارتی ریاست اترپردیش کی مقامی عدالت نے جاں بحق اخلاق احمد اور ان کے 6 اہل خانہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ اخلاق احمد کے خلاف کافی ثبوت مل چکے ہیں کہ انہوں نے گائے ذبح کی تھی ۔ درخواست دائر کرنے والے ہندو وکیل کا کہنا تھا کہ اگر اخلاق احمد کے اہلِ خانہ پر جرم ثابت ہوجا تا ہے تو انہیں سات سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: ہندوؤں کے تشدد سے جاں بحق ہونیوالے اخلاق کے فریج میں گائے کا گوشت نہیں تھا، سرکاری رپورٹ
واضح رہے کہ دادری واقعے کے بعد بھارتی دانشوروں ، اداکاروں اورمختلف ش عبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ملک میں بڑھتا ہوا عدم برداشت قرار دیا تھا۔