رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر کشیدگیحکومت سندھ اور رینجرز میں ایک بار پھر اختیارات میں توسیع کا معاملہ کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔
رینجرز کو پولیس اختیارات اور صوبے میں موجودگی کی مدت کی معیاد پوری ہو چکی ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ انھیں پورے صوبے میں کارروائی کے اختیارات دیے جائیں جبکہ صوبائی حکومت نے ان اختیارات کو کراچی تک محدود رکھا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ رینجرز کو سنگین نوعیت کے چار جرائم دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی روک تھام کے لیے جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ صرف کراچی تک محدود ہیں باقی سندھ کے لیے نہیں ہیں۔
قانون کے مطابق یہ اختیارات 120 روز کے لیے ہوتے ہیں جن میں توسیع کی جاتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ رینجرز کے قیام کی مدت میں بھی سالانہ توسیع ہوتی رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اہم معاملات میں پارٹی قیادت سے مشورہ کیا جاتا ہے، اختیارات میں توسیع کے حوالے سے ابھی فیصلہ ہونا ہے۔ بقول ان کے ’پولیس ہو یا رینجرز، کسی کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے، قانون اور آئین کے دائرے کے اندر سب کو کام کرنا ہے، ہر کسی کو اپنے فرائض کا پتہ ہونا چاہیے اور حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔‘
سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری سندھ میں حکمران پیپلز پارٹی اور رینجرز میں کشیدگی کا سبب بنی تھی، منگل کو اس مقدمے میں ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کے رہنما کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد حکومت سندھ اور رینجرز میں اختلافات ایک بار پھر اس وقت سامنے آئے جب رینجرز نے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کے گاؤں سے باقرانی میونسپل کے ملازم اسد کھرل کو گرفتار کیا جنھیں بعد میں ایک ہجوم نے تھانے سے رہا کروا لیا۔
Image copyrightAFP
مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ سویلین لباس میں کارروائی کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی۔
اسد کھرل کی گرفتاری کے لیے رینجرز نے لاڑکانہ میں کئی مقامات پرچھاپے مار کر ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا اور اس کے دوران سہیل انور سیال کے گھر کا بھی محاصرہ کیا گیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق اسد کھرل صوبائی وزیر داخلہ کے بھائی طارق سیال کے دوست ہیں۔
اس کارروائی کے بعد رینجرز کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ آپریشن کا دائرہ اندرون سندھ تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل سمیت اپوزیشن جماعتیں اس کا مطالبہ کرتی رہی تھیں۔
وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے لاڑکانہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد کھرل کے معاملے پر حکومت سندھ اور رینجرز میں کوئی اختلافات نہیں ہیں، پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اس سے صوبائی وزیر داخلہ یا ان کے بھائی کا کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان میں بھی رابطہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جب حکومت سندھ نے رینجرز کے پولیس اختیارات صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط کیے تھے تو وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت دو ماہ کے لیے یہ اختیارات دے دیے، تاہم بعد میں سندھ حکومت نے ان کو جاری رکھا۔