کارگل جنگ: ‘ہندوستان پاکستانی اڈوں پر حملہ کرنے والا تھا‘

کارگل جنگ 'ہندوستان پاکستانی اڈوں پر حملہ کرنے والا تھا‘ہندوستانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران ہندوستان نے پاکستان کی اہم تنصیبات پر حملے کامنصوبہ بنایا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں کارگل جنگ سے متعلق حاصل دستاویزات اور ایک سابق فوجی اہلکار کی لکھی گئی ڈائری کے اقتباسات کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستان کارگل جنگ کے دوران پاکستان کی اہم تنصیبات پر حملے کی تیاری کرچکا تھا اور پاکستان کے ایئر بیسز کو نشانہ بنانے کے لیے محض چند منٹ کے فاصلے پر تھا۔

دستاویزات کے مطابق ہندوستان ایئر فورس (آئی اے ایف) نے حملے کے لیے اہداف مقرر اور نقشے فائنل کرلیے تھے اور ہندوستانی فائٹرز پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا کہ پائلٹوں کو ایمر جنسی کے لیے ذاتی پستول اور پاکستانی کرنسی بھی دے دی گئی تھی تاکہ کسی بھی مشکل میں پھسنے کی صورت میں فائٹرز پاکستان کی کسی دوسرے کنڑول لائن سے فرار ہوسکیں۔

ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اُس وقت کے پاکستانی وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور ہندوستانی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری تھے۔

پاکستانی وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو واضح الفاظ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان گارگل میں قابض علاقوں سے دستبردار ہو، کشمیری سرحد کے ساتھ کنڑول لائن کا مطالبہ ختم کرے، فوری طور پر کئی دہائیوں سے متعین کردہ کنڑول لائن کو قبول کرے اور کیپٹن سوربھ کالیا سمیت 6 ہندوستانی فوجی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پاکستانی فوجی اہلکاروں کو سزا دے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ایک سابق فوجی اہلکار نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ ‘ہمیں 13 جون 1999 کی صبح ساڑھے 4 بجے ہدایات دی گئی تھیں کہ پاکستان پر حملے کے لیے تیار رہیں اور ہم صبح دیر گئے تک احکامات ملنے کا انتظار کرتے رہے، لیکن افسران بالا کی جانب سے کوئی احکامات نہ ملے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے منصوبے کی تبدیلی کے بارے میں وضاحت پیش نہیں کی گئی جبکہ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے ایف 16 طیارے کو بھی حملے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ‘ہندوستانی فائٹر پائلٹس فرانسیسی ساختہ کروٹیل ( Crotale) اور چینی ساختہ HQ2B زمین سے فضاء تک مار کرنے والے میزائلز (ایس اے ایم ایس) کے خطرات سے بخوبی آگاہ تھے، جو ہندوستانی ایئرکرافٹس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔’

تاہم کارگل جنگ میں ہندوستانی ایئر فورس کو واضح برتری حاصل تھی، ہندوستان نہ صرف پاکستان سے زیادہ فائٹرز جیٹ طیارے بلکہ دشمن کو روکنے کے لیے بہترین جنگی ہتھیاروں سے بھی لیس تھا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s