مقبو ضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم کیخلاف آواز اٹھانے والوں کی پوسٹس ڈیلیٹان دنوں سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر اور مقبو ضہ کشمیر میں بھارتی فوج و پولیس کی مسلسل بہیمانہ کاروائیوں کا معاملہ خوب عروج پر ہے، مقبوضہ کشمیر میں اٹھارہ روز سے کرفیو نافذ اور اب تک 60 کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آج کل مسئلہ کشمیر موضوع بحث ہے اور اس سنگین مسئلے پر آواز اٹھانے والوں کی پوسٹس ڈیلیٹ کی جارہی ہیں، اداکارحمزہ علی عباسی ان افراد میں سے ہیں جن کی کئی فیس بک پوسٹس ہٹائی جا چکی ہیں، فیس بک نے ان کی وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی، جس میں انہوں نے کشمیری حریت کمانڈر برہان مظفر وانی کی ستائش کی تھی۔

حمزہ علی عباسی کے علاوہ انہوں نے کئی نامور کشمیری کارکنوں ہما ڈار، خرم پرویز، ڈاکٹر دبییش آنند، ڈاکٹر نتاشا کول اور یہاں تک کہ امریکی سماجی کارکن میری سکلی کی پوسٹس بھی ڈیلیٹ کیں۔

کیلی فورنیا بارکلے یونیورسٹی کی پروفیسر ہما ڈار کا جن کا تعلق کشمیر سے ہے، انکا کہنا ہے وانی کی تصاویر اور ان کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد کی شرکت سے متعلق ایک ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد انکا فیس بک پیج مستقل طور پر بند ہے۔

لندن کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ڈیبیش آنند کے مطابق بھارتی سکیورٹی فورسز کی سرگرمیوں اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر تنقید سے متعلق ان کی پوسٹس کو دو مرتبہ مٹایا گیا: ’’فیس بک نے معذرت کی مگر ایک ہی دن میں دوسری مرتبہ میری پروفائل بلاک کی گئی اور اس کی وجہ ایک تنقیدی پوسٹ بنی۔

ایک صارف کا اس سینسر مہم کے خلاف شکوہ ہے کہ لگتا ہے فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ کشمیر کے کسی تھانے میں ایس ایچ او مقرر ہوگئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں آٹھ جولائی کو رہنما برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا، جو تاحال جاری ہیں۔

دوسری جانب ٹوئٹر پر کرکٹ میچ پر دھڑا دھڑ تبصرے جاری ہیں، پاکستان سے مایوس ہونے کے بعد شائقین کی نظرین دیگرٹیموں کے میچ پر ہیں جبکہ ہیپی برتھ ڈے آصف زرداری، وی لوو سلمان خان، اور پرے فور جاپان کا ہیش ٹیگ بھی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔