انڈین میڈیا میں قوم پرستی پر’جنگ‘

انڈین میڈیا میں قوم پرستی پر’جنگ‘ایک طرف ارنب گوسوامی ہیں، انڈین ٹی وی اینکرز میں شاید سب سے اونچی آواز کے مالک اور دوسری طرف ان کی سابق ساتھی برکھا دت، جنھوں نے کارگل کی جنگ کے دوران خوب شہرت حاصل کی تھی اور لڑائی پاکستان پر رہے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لڑائی صرف ٹی آر پی کی ہو، لیکن پاکستان کو شامل کر لیں تو فلم کی ’کاسٹ‘ پوری ہو جاتی ہے۔
ارنب ٹائمز ناؤ کے ایڈیٹر اور اینکر ہیں۔ ہر رات ٹی وی پر گونجتے ہیں: دی نیشن ڈیمانڈز ٹو نو! (ملک یا قوم اس سوال کا جواب چاہتی ہے) وہ اپنے چینل پر کسی کو نہیں بخشتے، کارگل کی جنگ کو 16 سال مکمل ہونے کے موقع پر منگل کی رات انھوں نے باقی ’پاکستان نواز‘ میڈیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔
ارنب نے کارگل میں اپنی جانیں قربان کرنے والے انڈین فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ’اس ملک کے ’سوڈو‘ یا فرضی لبرلز کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا انھیں کارگل کے شہیدوں کے بارے میں ایک بھی لفظ لکھنے یا بولنے کا حق ہے؟‘
بات یہیں ختم ہو جاتی تو پھر بھی غنیمت تھی لیکن ارنب گوسوامی بات بیچ میں چھوڑنے کے لیے مشہور نہیں ہیں۔
Image copyrightGETTY
Image caption
انڈین میڈیا دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف ٹائمز ناؤ جیسے چینل ہیں جو پاکستان سے سختی سے نمٹنے کی وکالت کرتے ہیں، تجزیہ نگار انھیں ’قوم پرست چینلوں‘ کے زمرے میں شامل کرتے ہیں
انھوں نے کہا ’میڈیا کا یہ حلقہ جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کو بدنام کر رہا ہے۔ یہ لوگ کشمیریوں کی آواز اٹھانے کے نام پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں، یہاں انڈیا میں بیٹھ کر پاکستان کی حمایت کرتے ہیں، وہ اصل انڈین میڈیا نہیں ہیں، وہ پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں، براہ راست یا بالواسطہ طور پر آئی ایس آئی کی حمایت کر رہے ہیں، اور حافظ سعید کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
انڈین میڈیا دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف ٹائمز ناؤ جیسے چینل ہیں جو پاکستان سے سختی سے نمٹنے کی وکالت کرتے ہیں۔ تجزیہ نگار انھیں ’قوم پرست چینلوں‘ کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔
دوسری جانب این ڈی ٹی وی جیسے چینل ہیں جنھیں ’لبرل‘ کیمپ میں رکھا جاتا ہے۔
جب سے کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے، ان کےدرمیان یہ نظریاتی فرق اور زیادہ واضح ہوگیا ہے۔
ٹائمز ناؤ اور باقی ٹی وی چینلوں کے درمیان ٹی آر پی کی جنگ نئی نہیں ہے۔ ٹائمز ناؤ کافی آگے ہے اور دونوں ایک دوسرے کو اپنے اشتہارات کے ذریعہ نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

Image caption
برکھا دت این ڈی ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ ان کا انداز مختلف ہے، این ڈی ٹی وی کے ایک اشتہار کے مطابق ان کے چینل پر ’چیخنا چلانا‘ نہیں ہوتا کیونکہ اپنی آواز سنوانے کے لیے چیخنا ضروری نہیں
لیکن یہ شاید پہلی مرتبہ ہے کہ میڈیا کے ایک حلقے کے خلاف ایک سینیئر صحافی نے اتنی سخت زبان استعمال کی ہے۔
برکھا دت این ڈی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور ان کا انداز مختلف ہے۔
این ڈی ٹی وی کے ایک اشتہار کے مطابق ان کے چینل پر ’چیخنا چلانا‘ نہیں ہوتا کیونکہ اپنی آواز سنوانے کے لیے چیخنا ضروری نہیں۔
یہ راز کسی سے چھپا نہیں کہ ارنب کا نشانہ کس کی جانب تھا۔؟
برکھا دت نے اپنے فیس بک پیچ پر ارنب کو جواب دیتے ہوئے لکھا ’ٹائمز ناؤ میڈیا کی آواز دبانے اور صحافیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے، یہ آدمی صحافی ہے؟ مجھے شرم آتی ہے کہ ہمارا پیشہ ایک ہے۔ وہ پاکستان سے بات چیت کی وکالت کرنے والوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت کا ذکر نہیں کرتے جو پاکستان اور علیحدگی پسند حریت سے بات کرنے کی پابند ہے۔‘
Image copyrightGETTY
Image caption
لفظوں کی اس جنگ میں ملک کے کئی دوسرے نامور صحافی بھی کود پڑے ہیں
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پاکستان آؤٹ ریچ (مودی نے نواز شریف کو اپنی حلف برداری میں مدعو کیا پھر اچانک پاکستان گئے) پر خاموش ہیں، مجھے ان میں سے دونوں پر ہی اعتراض نہیں لیکن چونکہ ارنب کے لیے یہ نظریات ہی حب الوطنی کا پیمانہ ہیں تو وہ حکومت کے خلاف کیوں خِاموش ہیں؟ چمچہ گیری؟‘
برکھا دت نے مزید کہا ’اس سب کے باوجود ہماری صحافتی برادری خاموش ہے لیکن میں پیچھے ہٹنے والی نہیں۔‘
قوم پرستی پر اس بحث نے غیر معمولی شدت اختیار کر لی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان حکومت کے موقف کی مخالفت کرنے والوں کو پاکستان نواز کہنے سے نہیں چوکتے۔
گذشتہ ہفتے کشمیر پر ایک بحث کےدوران جب فوج کے سابق سربراہ جنرل وی پی ملک نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے تو برکھا دت نے بی جے پی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہن سےمخاطب ہوتے کہا ’اچھا ہوا یہ بات فوج کے ایک سابق سربراہ نے کہی ہے، میں کہتی تو آپ مجھے قوم مخالف کا خطاب دے دیتے۔‘
Image copyrightBBC WORLD SERVICE
Image caption
یہ جنگ ابھی شروع ہوئی ہے، لڑائی بھلے ہی ٹی آر پی کی ہو لیکن بحث اس سوال پر ہی ہوگی کے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے صحافی دیش سے غداری کر رہے ہیں یا صرف اپنا کام
الفاظ کی اس جنگ میں ملک کے کئی دوسرے نامور صحافی بھی کود پڑے ہیں۔ ہیڈلائنز ٹوڈے کے راہل کنول نے ٹویٹ کیا ’آج کی بحث میں ایک طرف برکھا ہوتیں اور دوسری طرف ارنب لیکن مجھے معلوم ہے کہ ان میں سے ایک ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا۔‘
جواب میں برکھا نے ٹویٹ کیا ’پیچھے ہٹنے والے کا نام بتانے والے کے لیے کوئی انعام نہیں ہے!‘
ساگریکا گھوش نے کہا ’صحافیوں کو سب سے سوال پوچھنے چاہییں۔قوم پرستی کے نام پر پریس کو خاموش کرنے کی کوشش سینسر شپ کے علاوہ کچھ نہیں۔‘
یہ جنگ ابھی شروع ہوئی ہے، لڑائی بھلے ہی ٹی آر پی کی ہو لیکن بحث اس سوال پر ہی ہوگی کہ حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے صحافی دیس سے غداری کر رہے ہیں یا صرف اپنا کام۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s