خواتین پر تشدد: ’گوشت درحقیقت بھینس کا تھا‘

خواتین پر تشدد ’گوشت درحقیقت بھینس کا تھا‘انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ گائے کا گوشت لے جانے کے شبہے میں جن دو مسلم خواتین کس ساتھ بعض ہندو مردوں نے مار پیٹ کی تھی ان کے پاس اصل میں بھینس کا گوشت تھا گائے کا نہیں۔
منگل کے روز مندسور میں مبینہ طور پر ہندو تنظیم کے کچھ لوگوں نے دو مسلم خواتین کی اس شک میں پٹائی کی تھی کہ شاید ان کے پاس گائے کا گوشت ہے۔
خواتین کے ساتھ مار پیٹ کے واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس پر پارلیمان میں بھی ہنگامہ ہوا تھا۔
اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض لوگ دو خواتین کو سب کے سامنے مار رہے ہیں اور وہیں پر موجود پولیس اہلکار بجائے انھیں روکنے کے خاموش تماشائی ہیں۔
پولیس نے ان خواتین کو گرفتار کر کے 30 کلو گوشت برآمد کیا تھا۔ اس کی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ وہ بیف نہیں تھا۔
Image copyrightAP
Image caption
پولیس نے ان خواتین کو گرفتار کر کے 30 کلو گوشت برآمد کیا تھا۔ اس کی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ وہ بیف نہیں تھا
مدھیہ پردیش میں اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت اور اس سے وابستہ ہندو تنظیمیں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں۔
کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی عارف وکیل نے کہا: ’خواتین کو گرفتار کیا گیا، ان پر الزام لگایا گیا کہ ان کے پاس جو گوشت ہے، وہ گائے کا ہے۔ اب پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد حکومت کو معاوضہ دینا چاہیے۔ ان سے معافی مانگنی چاہیے۔‘
ریاست کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ نے کہا کہ تحقیقات کی بنیاد پر مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر داخلہ اس سے پہلے گوشت کی سمگلنگ میں کسی خاص گینگ کے شامل ہونے کی بات کہہ چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بھینس کے گوشت کے لانے لے جانے پر بھی پابندی ہے اور پکڑے جانے پر قانونی طور پر سزا ہوسکتی ہے۔
اس معاملے میں پولیس کا کردار پر خاص طور پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ جب مسلم خواتین کی پٹائي کی جا رہی تھی تو پولیس وہان کھڑی ہوکر تماشا کیوں دیکھ رہی تھی۔
Image copyrightMANOJ DHAKA
Image caption
ہندوں کے عقیدے کے مطابق گائے ایک مقدس جانور ہے جس کی وہ پوجا کرتے ہیں
مندسور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج شرما نے کہا ہے کہ یہ سماجی مسئلہ ہے۔ لوگوں کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اس رجحان کو متعلقہ لوگوں کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اس سے پہلے بھی ریاست مدھیہ پردیش کے ہردا میں بیف رکھنے کے شبہ میں ایک مسلمان جوڑے کے ساتھ ٹرین میں مارپیٹ کی گئی تھی۔
بدھ کے روز یہ معاملہ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے راجیہ سبھا میں اٹھایا تھا اور ان کے ساتھ ہی بعض دیگر ارکان نے پارلیمان میں اس معاملے کو اٹھایا تھا اور حکومت سے پوچھا تھا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جو جگہ جگہ گائے کے تحفظ کے نام پر بعض حاض برادریوں کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s