غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی اور عام شہریوں کی زمین بحریہ فاؤنڈیشن کے حوالے

غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی اور عام شہریوں کی زمین بحریہ فاؤنڈیشن کے حوالےقومی احتساب بیورو نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ سندھ، سابق صوبائی وزیر بلدیات اور چیئرمین ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنے منصب کا ناجائز استعمال کر کے غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی اور عام شہریوں کی زمین بحریہ فاؤنڈیشن کے حوالے کی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن، صوبائی وزیر پارلیمانی اور محکمہ خوراک نثار احمد کھوڑو نے قومی احتساب بیورو کے الزامات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور اس پر تبصرے سے معذرت کی۔
نثار احمد کھوڑو سید قائم علی شاہ کے دور حکومت میں سندھ کے سینیئر صوبائی وزیر کے منصب پر فائز تھے۔
صوبائی مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کیا کہ وہ مصروف ہیں جبکہ صوبائی مشیر لیبر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ان کا اس معاملے سے تعلق نہیں جبکہ مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا موبائل فون بند ہونے کی وجہ سے ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
سپریم کورٹ میں پیش کی گئی قومی احتساب بیورو کی اس تحریری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا 43 دیھوں کی کنسالیڈیشن کے بارے میں نوٹیفیکیشن، کالونائزیشن ایکٹ 1912 کے سیکشن 10 (1) ،2 اور 16 میں شامل لازمی شقوں کی خلاف ورزی ہے۔
ری ایڈجسمنٹ، ری ایکسچینج اور ری کنسالیڈیشن کا مقصد ’کے فور‘ منصوبے کے روٹ کو بحریہ سے گزارنا تھا
خیال رہے کہ نیب کی رپورٹ میں صرف عہدوں کا ذکر کیا گیا تاہم رپورٹ میں جس عرصے کا ذکر ہے اس وقت قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ اور شرجیل میمن وزیر بلدیات تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نوٹیفیکیشن سابق سینیئر ممبر بورڈ آف ریوینیو نے جاری کیا تھا جس کو یہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔
اس نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایم ڈی اے کو 43 دیہوں میں منصوبہ بندی کے لیے فزیکل سروے کی اجازت دی گئی تھی نہ کہ سرکاری زمین کسی اور فریق کو حوالے کرنے کی۔
اس نوٹیفیکیشن کے بعد ایم ڈی اے نے دو کنسلٹنٹنٹ کمپنیوں کی خدمات حاصل کیں لیکن تاحال ایم ڈی اے نے ان 43 دیہوں کا ماسٹر پلان تیار نہیں کیا اسی وجہ سے سندھ حکومت کے پاس ماسٹر پلان جمع نہیں کرایا گیا۔
وزیراعلیٰ کو سابق سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 12 جنوری 2016 کو بھیجی گئی سمری کے مطابق ایم ڈی اے کی کنسالیڈیشن کی اجازت کا نوٹیفیکیشن منسوخ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن وزیر اعلیٰ نے اس سمری کو 11 اپریل 2016 کو منظور کر کے سیکریٹری بلدیات کو درستگی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کنسالیڈیشن کا اختیار سیکریٹری بلدیات کو دیا گیا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی رہائشی منصوبے ہیں
نیب رپورٹ کے مطابق سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت سیکریٹری بلدیات کو ڈپٹی کمشنر اور ریونیو کے دیگر افسران کو ہدایت جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
نیب نے اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ نے ایم ڈی اے کو 43 دیہوں کی کنسالیڈیشن کے بارے میں جاری نوٹیفیکیشن جاری کر کے بحریہ ٹاؤن کے مفادات کا تحفظ کیا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔
نیب کی رپورٹ کے مطابق ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ ریونیو اور ڈپٹی کمشنر کو 14617 ایکڑ اراضی میں سے 7221 ایکڑ زمین کا تبادلہ یا کنسالیڈیشن کر کے بحریہ ٹاؤن کے پانچ کھاتیداروں کے حوالے کرنے کا اختیار نہیں تھا۔
’نوٹیفیکیشن میں فزیکل سروے کی اجازت دی گئی تھی نہ کہ سرکاری زمین کسی اور فریق کو حوالے کرنے کی‘
وزیر اعلیٰ سندھ نے سابق وزیر بلدیات، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے ساتھ مل کر اپنے اختیارات اور سرکاری منصب کا غلط استعمال کیا اور 6 جنوری 2015 کو ایک سمری منظور کی، جس کے تحت سرکاری اراضی کو ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کو الاٹ کی گئی باوجود اس کے یہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ سپر ہائی وے کے قریب واقع اسی 14617 ایکڑ زمین پر بحریہ ٹاؤن کی جزوی تعمیر جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق سیکریٹری بلدیات نے7 جنوری 2014 کو کراچی شہر کو اضافی پانی کی فراہمی کے منصوبے ’کے فور‘ کا روٹ تبدیل کرنے کی سمری منظوری کی، جس کی وزیراعلیٰ نے 24 اکتوبر 2014 کو منظوری دی۔
اس سمری کے پیرا نمبر 26 کے صفحے 6 پر تحریر ہے کہ محکمہ بلدیات کے صوبائی وزیر اور چیئرمین ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن جلد مکمل ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے سمری منظوری کرتے ہوئے ’کے فور‘ منصوبے کا روٹ بحریہ سے گزارنے کی منظوری دے دی۔
رپورٹ میں قومی احتساب بیورو نے کہا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایم ڈی اے کو فراہم کی گئی زمین سستے گھر بنانے کے لیے استعمال نہیں کی گئی جس کا ذکر 13 مارچ 2015 لینڈ یوٹلائزیشن کی سمری میں کیا گیا تھا۔
ری ایڈجسمنٹ، ری ایکسچینج اور ری کنسالیڈیشن کا مقصد ’کے فور‘ منصوبے کے روٹ کو بحریہ سے گزارنا تھا۔
یہ منصوبہ بحریہ کے 209 ایکڑ اراضی سے گزرے گا اس طرح سے کراچی کے شہریوں سے پہلے بحریہ ٹاؤن کی ضروریات پوری ہوں گی جبکہ منصوبے کا مقصد کراچی کے شہریوں کو پانی فراہم کرنا تھا اس اس پانی کے فراہمی کے لیے بحریہ فاؤنڈیشن کے حکومت سندھ سے کسی معاہرے کا ثبوت نہیں ملا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملیر کے سابق ڈپٹی کمشنر اور ایم ڈی اے کے افسران، عرصے سے آباد 6 دیہات گوٹھ نور محمد گبول، گوٹھ عثمان اللہ الھرکیو گبول، گوٹھ سومار گبول، گوٹھ علی محمد بکر گبول، گوٹھ علی داد گبول اور گوٹھ ربو گوندر کو مسمار کرنے کے کا ذمہ دار ہیں، جن کے 474 مکانات کو منہدم کیا گیا اور اس سے 88 ایکڑ زمین حاصل کی گئی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پیر کے روز سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی اجازت مانگی تھی اور کہا تھا کہ بیورو نے اس سکنیڈل میں ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے، جس کے بعد یہ سماعت ملتوی کردی گئی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s