111میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حلب کا نوحہ نہیں لکھوں گا۔ میں سر بریدہ لاشوں پر آنسو بہاوں گا نہ ظلم کی اس داستان کو ضبطِ تحریر میں لاؤں گا۔ اگرچہ میری نظروں کے سامنے ہزاروں دکھی ماؤں، تڑپتی بیٹیوں، سسکتی بہنوں، نوحہ کناں بھائیوں کے چہرے ہیں۔ جو ٹھٹھرتی ٹھنڈی راتوں میں اپنے پیاروں کے لاشے لیے سوال پوچھتے رہے کہ انھیں کس جرم میں قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ کون ہیں جو ‘لبیک یا حسین’ کا نعرہ لگا کر، ان سے جینے کا حق چھین رہے ہیں۔۔۔؟؟ کیا یہ درندے معصوم بچوں کا خون بہا کر حسین رضی اللہ کی خوشنودی کے طلبگار ہیں ؟
میں اپنے بھائیوں کی موت پر کا نوحہ نہیں لکھوں گا۔ میں اپنی بہنوں کی بے حرمتی پر گریہ نہیں کروں گا۔ اگرچہ مری آنکھوں کے سامنے سارے منظر ہی دل دہلا دینے والے ہیں۔ لیکن میرے پیش نظر تو وہ ماں ہے، جو اپنے بیٹوں کو قربان کر چکی ہے مگر بھی ثابت قدمی، غیرت، شجاعت اور استقامت کے ساتھ میدانِ کارزار میں کھڑی ہے۔ اور پیغام دے رہی ہے کہ ہوسِ حصولِ اقتدار کے لیے ‘‘مولا حسین’’ کا نام لے کر مسلمانوں کو نوچنے اور کاٹنے والے وحشی مسلمان تو کُجا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ہیں۔
میرے سامنے تو حلب کے وہ شیر ہیں جو اپنی آخری سانس، لہو کے آخری قطرے اور آخری گولی تک ڈٹے رہے۔ جو کٹ گرے لیکن جھکے نہیں۔ جب تک دم میں دم رہا، یوں جئے کہ زندگی ان پر ناز کرتی رہی۔ جب سب کچھ ختم ہوا، تو یہ بھی زندہ جاوید ہو گئے۔ میں ایسے بہادوں کا نوحہ کیا لکھوں؟ میں ایسے دلیروں کا ماتم کیا کروں؟
ہاں نوحہ لکھنا ہی ہوا، تو ایک ارب زیادہ مسلمانوں کا نوحہ لکھوں گا۔ جو زندہ لاشوں کی صورت موجود ہیں۔ جنہیں اپنے جسد کے کسی انگ کے کٹ جانے کا احساس نہیں ہوتا۔
جن پر کسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے۔
یوں سمٹ کے بیٹھے ہو جو جسموں کی قبر میں
کتبہ بھی سرِ قبر لگا کیوں نہیں دیتے ؟؟

اوریا مقبول جان