جاپان کی حکومت کے تعاون سے نیشنل ہائی وے 70 (این ایچ-70) کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا۔

راکھی گاج سے کھر بواٹہ تک پہاڑوں کو کاٹ کرہموار راستہ تیار کرنے کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبے کے تحت کارگو سامان کی ترسیل کو محفوظ اور بہتر بنانا ہے، اس منصوبے کے تحت راستے میں اسٹیل کے 8 پلوں کی تنصیب کی جائے گی۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر صولت بھٹی نے بتایا کہ این ایچ 70 کو ملتان سے قلعہ سیف اللہ تک وسیع اور بہتر کرکے سی پیک کے روٹ سے ملایا جا رہا ہے جب کہ منصوبے کے تحت ملتان سے ڈیرہ غازی خان تک روڈ کو ڈبل روٹ بنانے کے لیےکام جاری ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں 14 ارب روپے کی لاگت سے مشرق و مغرب کے راکھی گاج سے کھر بواٹہ روٹ کی تیاری کی جا رہی ہے، منصوبہ تین مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا جس پر 23 ارب روپے کی مجموعی لاگت آئے گی۔

صولت بھٹی کے مطابق این ایچ 70 کی تعمیر پہلی بار 19 ویں صدی کے آخرمیں برطانوی انجنیئرز نے کی تھی، اس راستے میں پہاڑیوں پر بنے 7 مشکل ترین موڑوں سے گزرنے کے بعد منرو یا بواٹہ میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ این ایچ 70 میں 33 کلو میٹر کا فاصلہ پہاڑیوں پر مشتمل ہے، جب کہ پہاڑیوں والے حصے میں تقریبا ڈیڑھ کلو میٹر طویل اسٹیل کی 8 پلوں کی تعمیر کی جائے گی۔

ان کے مطابق منصوبے کے تحت جاپانی انجنیئرز کوہاٹ ٹنل کی بھی تعمیر کر رہے ہیں، جب کہ وزیراعظٖم نواز شریف جلد منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کریں گے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرعطا محمد نے بتایا کہ این ایچ 70 کے منصوبے پر کام کرنے والے عملے کی حفاظت کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ ، ضلعی اور ایلیٹ پولیس کے 180 اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں،جب کہ بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے اہلکار بھی منصوبے کے انجنیئرز اور ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تعینات ہیں۔

دشوار گزار راستے کی تاریخ
ڈیرہ تافتان کے نام سے مشہور پہاڑی علاقوں پر مشتمل اس دشوار گزار روڈ کی راکھی گاج سے گرڈو تک پہلی بار تعمیر برصغیر میں انگریزوں کے دور میں ہوئی تھی۔

19ویں صدی کے آخر میں انگریزوں نے اسٹریٹجک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دشوار گزار راستے کو تیار کیا۔

اس روڈ کو مزید بہتر بنانے والے حالیہ منصوبےمیں کام کرنے والے ایک مزدور کے مطابق ان کے دادا نے انہیں بتایا تھا کہ یہ راستہ مشکل ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس راستے نے قبائلی لوگوں کی زندگی کو تبدیل کیا ہے۔