%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-%d9%88-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d8%b5%db%81 مقبوضہ کشمیرمیں سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانبدار عدلیہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتی، ریاست جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا، نہ ہے اور نہ آئندہ ہوگا،بھارت کی آزادی سے قبل بھی ایک الگ، آزاد اور خودمختار خطہ تھا۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں نے سری نگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں جموں وکشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعے کا واضح ثبوت ہیں۔ سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ نے ایک بیان میں کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی اس سے مقبوضہ علاقے کی متنازع حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے۔
میرواعظ عمر فاروق نے بھارت کے سرکردہ دانشورکمل مرار کا اورصحافی سنتوش بھارتیہ سے سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ کشمیر ی عوام کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہاکہ کشمیر ایک دیرینہ تنازع ہے جس نے گزشتہ 7 دہائیوں سے علاقائی امن کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس اور جماعت اسلامی نے آسیہ اندرابی کی عدالت کی طرف سے ان کی کالے قانون کے تحت نظربندی کالعدم قرادیے جانے کے باوجود دوبارہ گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک طرف آسیہ اندرابی کا جواں سال بیٹا اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور دوسری طرف وہ خود کئی عارضوں میں مبتلا ہونے کے باجود آہنی سلاخوں کے پیچھے جرم بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہے۔ یہ انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے کہ ایک ماں کو اپنے بیمار بیٹے سے ملنے اور اس کی تیمارداری سے بھی روکا جارہا ہے۔
بھارتی اہلکاروں کے مظالم کے خلاف سرینگر میں مائسمہ کے علاقے مدینہ چوک میں احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ دھرنے کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ دھرنے میں بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں حکمران اتحاد میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے سابق جنگجوؤں کی آبادکاری کے منصوبوں کی حمایت کر دی ہے۔
جموں میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی ترجمان اور سابق آئی پی ایس افسر ایس ایس بجرال نے وزیر اعلیٰ کی طرف سے جنگجوؤں کی صفوں میں شامل نوجوانوں کو مین اسٹریم میں لانے اور ان کے کنبوں کی راحت رسانی کی کھل کر حمایت کی ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیرکی اسمبلی کے رکن انجینئر رشید نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے ریاستی آئین سے متعلق فیصلے میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ہندوستان کی اسی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا واحد مقصد ریاست کی متنازع حیثیت کوختم کرکے مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کرنا ہے۔ادھر شبیراحمد شاہ اور بلال صدیقی نے بھی آسیہ اندرابی کو دوبارہ گرفتار کی مذمت کی۔